سعودی عرب کا 2030 تک مائننگ میں سرمایہ کاری 92 ارب ریال تک لے جانے کا ہدف

بدھ 14 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ نیشنل انویسٹمنٹ اسٹریٹجی کے تحت مائننگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کو 2024 میں تقریباً 45 ارب سعودی ریال سے بڑھا کر 2025 سے 2030 کے دوران تقریباً 92 ارب سعودی ریال تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق

اس منصوبے میں مائننگ کے شعبے میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کو دگنا کرنا اور ایسا سرمایہ کاری ماحول پیدا کرنا شامل ہے جو 20 فیصد سے 30 فیصد تک اوسط انٹرنل ریٹ آف ریٹرن فراہم کر سکے۔

وزیر سرمایہ کاری نے یہ بات ریاض میں فیوچر منرلز فورم 2026 کے موقع پر منعقدہ ڈائیلاگ سیشن میں کہی، جس کا موضوع عالمی مائننگ سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے جرات مندانہ اقدامات تھا، اس سیشن میں مائننگ کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کو درپیش چیلنجز اور اہم معدنیات کی تیزی سے بڑھتی عالمی طلب کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی نئی یوتھ ڈویلپمنٹ پالیسی، وژن 2030 میں نوجوانوں کے فعال کردار کی راہ ہموار

سیشن میں اورائن ریسورس پارٹنرز کے منیجنگ پارٹنر اور ڈپٹی گروپ چیف ایگزیکٹو مائیکل بارٹن، کارلائل گروپ کے انرجی پاتھ ویز کے چیف اسٹریٹجی آفیسر جیف کری، انٹیگرا کیپیٹل کے بانی اور چیئرمین ڈاکٹر ہوسے لوئیس مانسانو، ایپیئن ایڈوائزری کے ہیڈ آف گلوبل افیئرز ڈومینک راب اور ایوان ہو الیکٹرک کے پریذیڈنٹ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیلر میلون نے شرکت کی۔

خالد الفالح نے زور دیا کہ موجودہ مرحلہ حکومتوں، نجی شعبے اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے مربوط اور جرات مندانہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ فنانسنگ کے مسائل پر قابو پایا جا سکے اور ویلیو چین کے تمام مراحل میں مائننگ منصوبوں کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: امیر مدینہ منورہ کا سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے منصوبے جاری رکھنے پر زور

انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک معدنیات کی عالمی طلب میں اضافہ کسی عارضی مارکیٹ سائیکل کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل المدتی ساختی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کیا کہ مملکت نے مائننگ کے شعبے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی ہے، جس کے تحت 2020 سے 2024 کے دوران ایکسپلوریشن پر اخراجات میں 5 گنا اضافہ کیا گیا اور منصوبوں کی مدت کم کر کے 8 سے 10 سال میں پیداوار تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کو مربوط انفراسٹرکچر، بشمول سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں اور لاجسٹکس نیٹ ورکس، کے ساتھ ساتھ ایلومینیم اور فاسفیٹ میں عالمی سطح پر مسابقتی ویلیو چینز کی حمایت حاصل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں