حکومت کی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے، عمران خان مشکل سے نکلنے کے لیے حکمت عملی بنائیں، مجیب الرحمان شامی

جمعرات 15 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ برسوں کی خراب چیزیں ایک دن میں درست ہوجائیں، وزیراعظم سمیت حکومت کے تبدیل ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے، ’ونڈر بوائے‘ کو جس نے تخلیق کیا ہے وہی بتائیں گے کہ وہ کون ہے۔

’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے کو اچھے انداز میں چلا رہی ہیں، بہترین کام کررہی ہیں اور لوگوں کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومت سپر اسپیڈ سے نکل کر ’ونڈر بوائے‘ کی تلاش میں مصروف ہے، بیرسٹر گوہر

’شہہاز شریف جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو ان کی وجہ شہرت بھی یہی تھی کہ وہ کام میں لگے رہتے ہیں، اب مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب ہیں تو ان کے بارے میں بھی یہی سن رہے ہیں کہ وہ کام میں لگی رہتی ہیں۔ مخالفین ان پر تنقید جبکہ حامی تعریف کرتے ہیں۔‘

مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ ابھی تک پاکستان میں ایسا کوئی انتخاب نہیں ہوا جس پر اعتراضات نہ اٹھے ہوں، میری نظر میں سب سے متنازعہ الیکشن 1977 کا تھا، جس میں اپوزیشن ایک دن کے لیے بھی اسمبلی نہیں گئی اور کہاکہ ہم اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے، پھر ایک بڑی تحریک چلائی گئی اور الیکشن کرانے والوں نے بھی مانا کہ انتخابات میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں جس کے بعد نئے انتخابات کروائے گئے ۔

انہوں نے کہاکہ اب کی بار اپوزیشن اسمبلیوں میں ہے، ایک صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے، وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کہتی ہے کہ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے مگر یہ لوگ اسمبلیوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ساتھ اعتراض بھی کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کا مستقبل تو کوئی ’نجومی‘ ہی بتا سکتا ہے، تاہم میرے مطابق ان کا مستقبل ان کے اپنے ہاتھ میں ہے، جب کسی پر آفت آتی ہے تو وہ اپنی حکمت عملی بناتا ہے، عمران خان بھی کوئی ایسی حکمت عملی بنائیں جس کے ذریعے وہ اس مشکل سے نکل آئیں۔

مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے بھی اپنی حکمت عملی بنا کر ایسی مشکلات سے چھٹکارہ حاصل کیا۔ عمران خان پر مشکلات اس وجہ سے ہیں کہ انہوں نے شورش کی سیاست شروع کردی ہے۔ اگر وہ نارمل طریقے سے سیاست کرتے رہتے تو صورت حال مختلف ہوتی، اب بھی اگر وہ اپنے سینیئر لوگوں کو فری ہینڈ دے دیں تو کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار نے کہاکہ عمران خان کو سیاست سے مائنس نہیں کیا جاسکتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسمبلیوں میں بھی ہیں اور عوام میں بھی ان کی مقبولیت ہے۔ ان کی پارٹی کے لوگ پچھلے دو ڈھائی سالوں سے جیلوں میں ہیں، جو کوتاہی ہونا تھی وہ ہوگئی، اب ہمیں قوم کو متحد بھی تو کرنا ہے، آگے بھی تو بڑھنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ نواز شریف خوش ہیں کہ ان کی بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں، بھائی وزیراعظم پاکستان ہیں، جبکہ خود وہ پارٹی کے صدر ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر، تعلقات میں دراڑ کی باتیں بے بنیاد

مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ عمران خان وزیراعظم بن کر کیا کریں گے، ان کو چاہیے کہ وہ قوم کو متحد کریں، محاذ آرائی کی سیاست ختم کریں، اقتدار سے باہر رہ کر بھی تو قوم کی خدمت کی جاسکتی ہے، نواز شریف اور عمران خان دونوں قوم کو متحد کر سکتے ہیں، دونوں مل کر بیٹھ جائیں۔

انہوں نے کہاکہ مریم نواز اور بلاول بھٹو دونوں میں وزیراعظم بننے کی صلاحیت ہے، اب دیکھیں موقع کس کو ملتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ شائقینِ کرکٹ کی رائے تقسیم

پاکستان کے حسن کو دریافت اور اجاگر کرنے کے عزم کیساتھ میاں بیوی کا پیدل سفر

ایسے حالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں کہ نئے صوبے کے لیے 2 تہائی اکثریت کی شرط ہی ختم ہو جائے، اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی

بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار، فلاحی مسائل اور کمیونٹی ویلفیئر اتاشیز کی کارکردگی کا جائزہ

پاکستان نے 2 سال کے لیے اقتصادی تعاون تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھال لی

ویڈیو

کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ شائقینِ کرکٹ کی رائے تقسیم

پاکستان کے حسن کو دریافت اور اجاگر کرنے کے عزم کیساتھ میاں بیوی کا پیدل سفر

ایسے حالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں کہ نئے صوبے کے لیے 2 تہائی اکثریت کی شرط ہی ختم ہو جائے، اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟