مثبت آغاز کے بعد جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں دوبارہ فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس میں تقریباً 1,500 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی۔
دوپہر 2 بج کر 35 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 181,073.23 پوائنٹس پر موجود تھا، جو 1,496.58 پوائنٹس یعنی 0.82 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔
انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے اسٹاکس، جن میں اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، ایس ایس جی سی، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہیں، مندی کا شکار رہے۔
The Pakistan Stock Exchange faced renewed selling pressure, with the KSE-100 index dropping 1,381.69 points to close at 182,569.82 amid profit-taking and regional tensions, despite some gains in the energy sector. https://t.co/Dr5FJvBtnC
— Investify Pakistan (@investifypk) January 15, 2026
بدھ کے روز حکومتِ پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فائنانشل امریکا کی ذیلی کمپنی ایس سی فائنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد جدید ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور سرحد پار مالیاتی جدت میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کا مرکزی کرپٹو بزنس ہے۔
مزید پڑھیں: فروخت کے دباؤ کے باعث اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں، انڈیکس میں 890 پوائنٹس کی کمی
گزشتہ روز یعنی بدھ کو بھی پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، جہاں مسلسل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمتِ عملی کے باعث بینچ مارک انڈیکسز سرخ زون میں بند ہوئے۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 182,569.82 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 1,381.69 پوائنٹس یعنی 0.75 فیصد کمی کا عکاس ہے۔

عالمی سطح پر، جمعرات کو تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئیں، جبکہ محفوظ سرمایہ کاری سمجھے جانے والے سونے کی قیمت بھی ریکارڈ سطح سے کچھ کم ہو گئی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے متعلق خدشات کم کیے۔
ٹیکنالوجی اسٹاکس میں فروخت کا رجحان ایشیائی مارکیٹس تک پھیل گیا، جب وال اسٹریٹ میں مزید گراوٹ کے بعد سرمایہ کار ہائی فلائنگ چِپ اور مصنوعی ذہانت سے جڑی کمپنیوں سے نکل کر مارکیٹ کے دیگر شعبوں میں مواقع تلاش کرنے لگے۔
مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ
صدر ٹرمپ نے بدھ کی دوپہر کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں ملک گیر احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ہلاکتوں میں کمی آ رہی ہے اور ان کے خیال میں اس وقت بڑے پیمانے پر سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
ایشیا میں اسٹاک مارکیٹس کا رجحان ملا جلا رہا، تاہم ٹیکنالوجی شیئرز مزید دباؤ کا شکار رہے۔
جاپان میں ٹیکنالوجی پر مبنی نِکّے انڈیکس 0.9 فیصد کمی کے بعد نیچے آیا، جو پچھلے سیشن میں آل ٹائم ہائی پر پہنچا تھا، جبکہ وسیع تر ٹاپکس انڈیکس 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔














