معروف اینکر پرسن اقرار الحسن سید نے اپنی سیاسی جماعت قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اور اس کا نام ’پاکستان عوام راج تحریک‘ بتایا ہے۔ اعلان کیا ہے کہ وہ کبھی کوئی سیاسی، سرکاری یا حکومتی عہدہ نہیں لیں گے۔
لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عام لوگ اس پارٹی کے مالک ہوں گے۔
’اور میں اللہ اور اس کے رسول کو حاضر و ناظر جان کر یہ عہد کرتا ہوں کہ میں کوئی سیاسی، حکومتی یا سرکاری عہدہ نہیں لوں گا۔‘
انہوں نے کہا کہ آپ میں سے جتنے لوگ چاہیں، میں انہیں قائل کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اس تحریک کے نتیجے میں میں کسی بھی سیاسی جماعت سے، اس جماعت سمیت کوئی فائدہ نہیں اٹھاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں کبھی کوئی سیاسی، سرکاری یا حکومتی عہدہ نہیں لوں گا۔ نہ ہی میں اس عہدے کی توقع رکھوں گا۔ اور نہ ہی کسی کے اصرار پر اسے قبول کروں گا۔ کیونکہ مجھے فکری کام کرنا ہے۔
طلوعِ صبحِ عوام !!
قبل ازیں اقرار الحسن سید نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں طلوع صبح عوام کا نعرہ لگاتے ہوئے لکھا کہ آج پاکستان کے مزدور، محنت کش اور ہاری کی تحریک کا آغاز ہو رہا ہے۔
’یہ تحریک پاکستان کے عام آدمی اور مڈل کلاس نوجوان کی تحریک ہے۔ ریڑھی والے، بس ڈرائیور اور ہاکر کی تحریک ہے۔ تعلیم اور روزگار کے لیے بسوں اور ویگنوں میں سفر کرتی بیٹیوں کی تحریک ہے۔ چلچلاتی دھوپ میں بیوی اور بچے کے ساتھ پنکچر موٹر سائیکل کو دھکیلتے شخص کی ہے۔ سردیوں کی برف رات میں سڑک پر ڈیوٹی دینے کے بعد سائیکل پر گھر جاتے سکیورٹی گارڈ کی ہے اور بجلی کے بل کے لیے اپنی بالیاں بیچتی ماں کی ہے۔۔۔‘
انہوں نے پوسٹ میں بھی لکھا تھا کہ میں کبھی اس تحریک، اس کے نتیجے میں بننے والی سیاسی جماعت اور اُس کے نتیجے میں ملنے والی حکومت میں اگر کبھی کوئی عہدہ یا مفاد وابستہ رکھوں تو خدا مجھ پر اپنا قہر نازل کرے۔
واضح رہے کہ اقرار الحسن سید نے دسمبر 2025 کے اواخر میں نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ 15 جنوری کو اپنی تحریک کے نام کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔
اقرار الحسن نے نوجوانوں نے خطاب کرتے ہوئے اپنے پیغام میں پنجاب کی سیاسی اور ترقیاتی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے پنجاب کے لیے متعدد ترقیاتی کام انجام دیے جبکہ محسن نقوی نے بطور نگراں وزیراعلیٰ کئی انڈر پاسز تعمیر کروائے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی خوش قسمتی رہی ہے کہ وہاں آنے والے حکمرانوں میں سے مریم نواز سمیت ہر ایک نے کام کیا سوائےعثمان بزدار کے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں دکان نہیں ہوتیں کہ ایک شخص کے انتقال کے بعد کسی اور کو منتقل ہو جائیں بلکہ یہ مضبوط ادارے ہوتے ہیں۔
اسی دوران اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ذاتی نظریات پیش کرنا نہیں بلکہ پاکستان میں نئی سیاسی جماعت کے قیام کے ذریعے مسائل کا حل پیش کرنا ہے۔













