بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے جولائی 2024 کی عوامی تحریک میں شریک افراد کو قانونی استثنا دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایڈوائزری کونسل نے ایک آرڈیننس کی منظوری دی، جسے جمہوریت کی بحالی کے لیے کی گئی سیاسی مزاحمت سے جوڑا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: جولائی تحریک کے 31 متاثرین کا پاکستان میں علاج کا فیصلہ
یہ فیصلہ چیف ایڈوائزر محمد یونس کی زیر صدارت تیجگاؤں، ڈھاکہ میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد قانون کے مشیر آصف نذرل نے فارن سروس اکیڈمی میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ آرڈیننس آئندہ 5 سے 7 دن کے اندر گزٹ کر دیا جائے گا۔
بنگلہ دیش کے مشیر برائے قانون آصف نزرل کے مطابق جولائی ماس اپ رائزنگ پروٹیکشن اینڈ اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس کے تحت جولائی اور اگست کے دوران کیے گئے ان اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا جو فاشسٹ نظام کے خاتمے اور جمہوری نظام کی بحالی کے لیے سیاسی مزاحمت کے دائرے میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جولائی تحریک کے شرکا کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لے گی اور اس نوعیت کے نئے مقدمات کے اندراج پر بھی پابندی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات: امن و امان کے لیے سیکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اختیارات تفویض
انہوں نے واضح کیا کہ یہ قانونی استثنا قتل یا ذاتی مفاد، ذاتی دشمنی یا انتقامی کارروائی کے تحت کیے گئے جرائم پر لاگو نہیں ہوگا، چاہے انہیں سیاسی مزاحمت کا نام دیا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ذاتی لالچ یا ذاتی رنجش کی بنیاد پر کیے گئے قتل کو تحفظ دینے کے لیے نہیں بنایا گیا۔
آصف نذرل نے بتایا کہ یہ تعین کرنا کہ کوئی قتل سیاسی مزاحمت کا حصہ تھا یا ذاتی جرم، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے سپرد کیا جائے گا، متاثرہ خاندان اگر یہ سمجھتے ہوں کہ قتل کا جولائی تحریک سے کوئی تعلق نہیں تھا تو وہ کمیشن میں درخواست دے سکتے ہیں۔
کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کو پولیس رپورٹ کے برابر قانونی حیثیت حاصل ہوگی اور اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عثمان ہادی کے قتل میں ملوث کسی فرد کو نہیں بخشا جائے گا، بنگلہ دیش
صحافیوں کے سوال پر قانون کے مشیر نے کہا کہ نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن 31 جنوری تک دوبارہ تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ آرڈیننس جولائی تحریک کے شرکا سے عبوری حکومت کے پہلے سے کیے گئے وعدے کی تکمیل ہے، تاہم سیاسی مزاحمت کے دائرے سے باہر آنے والے جرائم پر احتساب بدستور ہوگا۔
یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کو جنم دے سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک 2025 کے وسط میں پیش آنے والے سیاسی بحران کے بعد عبوری مرحلے سے گزر رہا ہے۔














