جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے جنوبی حصے میں واقع متمول گنگنم ضلع کے ایک پسماندہ علاقے میں جمعہ کے روز لگنے والی ایک بڑی آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 300 فائر فائٹرز نے کارروائی کی۔
سیول میٹروپولیٹن فائر اینڈ ڈیزاسٹر ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم گوریونگ گاؤں کے 47 رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاور بینک نے چین سے جنوبی کوریا جانے والی پرواز کے مسافروں کو اسپتال پہنچادیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ علاقے میں تقریباً 110 افراد مقیم تھے۔
آگ صبح تقریباً 5 بج کر 10 منٹ پر بھڑکی، جس کے بعد حکام نے فائر الرٹ کو دوسرے بلند ترین درجے تک بڑھا دیا، فائر اہلکاروں کو خدشہ تھا کہ آگ قریبی پہاڑی علاقے تک پھیل سکتی ہے۔
Seoul fire officials are working to contain a large fire that broke out early Friday at the Guryong Village in Gangnam-gu, southern Seoul, forcing the evacuation of 25 households.https://t.co/Ufu9dhFQYD pic.twitter.com/qPDgel6ZNI
— The Korea Herald 코리아헤럴드 (@TheKoreaHerald) January 16, 2026
موقع سے لی گئی تصاویر میں علاقے پر سیاہ دھوئیں کا بلند ستون چھایا ہوا نظر آیا، جبکہ بزرگ رہائشی فیس ماسک پہنے علاقہ خالی کر رہے تھے۔
69 سالہ کم اوک-اِم نے بتایا کہ وہ سو رہی تھیں کہ ایک پڑوسی نے فون کر کے آگ لگنے کی خبر دی، جس پر وہ فوراً باہر نکلیں تو دیکھا کہ شعلے پھیل رہے تھے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں جنوبی کوریا کا تجارتی راکٹ لانچ کے فوراً بعد گر کر تباہ
’چند سال پہلے سیلاب سب کچھ بہا لے گیا تھا اور اب یوں لگتا ہے کہ آگ باقی سب کچھ بھی لے جائے گی، مجھے فکر ہے کہ اگر میرا گھر تباہ ہو گیا تو میں کہاں رہوں گی۔‘
آگ بجھانے کے لیے مجموعی طور پر 85 فائر ٹرک روانہ کیے گئے، تاہم شہر میں دھند اور باریک گرد کی وجہ سے ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا جا سکا۔
جنوبی کوریا کے وزیرِ تحفظ یون ہو-جنگ نے حکام کو ہدایت کی کہ تمام دستیاب عملہ اور سازوسامان متحرک کر کے انسانی جانیں بچانے اور آگ بجھانے پر پوری توجہ دی جائے۔
مزید پڑھیں: ’خاندانی نام برائے فروخت‘: کوریا میں ہر دوسرا شخص کم، لی یا پارک کیوں ہوتا ہے؟
گوریونگ گاؤں، گنگنم جیسے امیر ترین ضلع میں واقع کچی آبادی ہے، جسے بلند رہائشی عمارتوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔
سیول کی شہری منصوبہ بندی کی رپورٹ کے مطابق، اس بستی کا قیام 1970 اور 1980 کی دہائی میں اس وقت عمل میں آیا جب ایشین گیمز اور سیول اولمپکس سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کے باعث بے گھر ہونے والے خاندان بغیر اجازت گنگنم کے کنارے آ کر آباد ہو گئے۔
مزید پڑھیں: جنوبی کوریا کے نیشنل میوزیم میں پہلی مستقل اسلامی آرٹ گیلری کا افتتاح
یہ عارضی مکانات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور آتش گیر مواد جیسے پلاسٹک شیٹس، پلائی وُڈ اور اسٹائروفوم سے بنے ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ آگ لگنے کے خطرے سے دوچار رہتا ہے، 2023 میں لگنے والی ایک آگ کے بعد فائر ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس کمزوری کی نشاندہی کی تھی۔
اگرچہ بیشتر رہائشی ترقیاتی منصوبے کے باعث علاقہ چھوڑ چکے ہیں، تاہم گنگنم ضلعی شہری منصوبہ بندی کے محکمے کے مطابق اب بھی تقریباً 336 گھرانے وہاں مقیم ہیں۔













