وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی نقطہ نظر سے آئینی اقدامات اٹھانے میں محتاط ہے، اور کوئی بھی فرد یا جماعت اگر ملک میں انتشار یا ہنگامہ آرائی کرے گا تو اسے 26 نومبر سے بھی سخت کارروائی کا سامنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی مزید کوئی مزاحمت کرنا چاہتی ہے تو کرلے، پیشگی شرائط پر مذاکرات نہیں ہوں گے، طلال چوہدری
سینیٹر طلال چوہدری نے نجی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت ایک سیاسی حکومت ہونے کے ناتے آئینی امور کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ چلانا چاہتی ہے۔
وزیر مملکت نے خبردار کیا کہ اگر کسی جماعت یا افراد نے انتظامی نظام معطل کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کسی کو یہ سوچنے بھی نہیں دے گی کہ وہ ملک میں انتشار پیدا کر سکتا ہے۔

طلال چوہدری نےعمران خان کی صحت سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب افواہیں غلط ثابت ہوئی ہیں اور حکومت نے ہمیشہ ان کو بہترین سہولتیں فراہم کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس 2 میں سزا بہت پہلے ہو جانی چاہییے تھی، طلال چوہدری
انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کو انتشار یا جھوٹی خبریں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور یہ رویہ کسی جماعت کو زیب نہیں دیتا۔ وزیر مملکت نے زور دیا کہ حکومت آئینی معاملات کو قانون کے دائرے میں رہ کر حل کرے گی اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔














