اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے درجنوں اراکین سینیٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل

جمعہ 16 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 16 جنوری 2026 کو اعلان کیا ہے کہ وہ تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ جنہوں نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی اثاثہ جات اور واجبات کی رپورٹ جمع نہیں کروائی، ان کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ معطل اراکین اپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دے سکیں گے جب تک کہ رپورٹ جمع نہ کرائیں۔

یہ بھی پڑھیں:اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے ارکانِ پارلیمان کو الیکشن کمیشن کا آخری نوٹس

الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 اور الیکشن رولز 2017 کے مطابق، ہر رکن اسمبلی اور سینیٹ کو لازمی ہے کہ وہ 30 جون کی حیثیت سے اپنی اور اپنے شریک حیات و منحصر بچوں کی اثاثہ جات و واجبات کی تفصیل فارم بی میں 31 دسمبر تک جمع کروائے۔ اگر کوئی رکن 15 جنوری تک رپورٹ جمع نہیں کراتا، تو کمیشن 16 جنوری کو اس کی رکنیت معطل کر سکتا ہے۔

قومی اسمبلی کے اراکین

کمیشن نے 31 اراکین قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جنہوں نے رپورٹ جمع نہیں کروائی۔ اس فہرست میں NA-12 سے NA-256 تک کے حلقے شامل ہیں، جن میں محمد ادریس، مجاہد علی، فضل محمد خان، ذوالفقار علی، شاہد احمد، نسیم علی شاہ اور دیگر نمایاں اراکین شامل ہیں۔

صوبائی اسمبلیوں کے اراکین

پنجاب اسمبلی

پنجاب اسمبلی کے 47 اراکین نے رپورٹ جمع نہیں کروائی، ان میں PP-3 سے PP-273 کے حلقے شامل ہیں، اس میں مرد اور خواتین دونوں ریزرو سیٹ کے نمائندے شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی

سندھ اسمبلی

سندھ کے اسمبلی 33 اراکین نے رپورٹ جمع نہیں کروائی، جن میں PS-4 سے PS-111 کے حلقے شامل ہیں، خواتین اور غیر مسلم ریزرو سیٹ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

سندھ اسمبلی

خیبر پختونخوا اسمبلی

خیبر پختونخوا اسمبلی کے28 اراکین رپورٹ جمع نہیں کروا سکے، جن میں PK-15 سے PK-109 کے حلقے شامل ہیں، خواتین ریزرو سیٹ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی

بلوچستان اسمبلی

بلوچستان اسمبلی کے 7 اراکین رپورٹ جمع نہیں کروا سکے، جن میں PB-17 سے PB-42 کے حلقے شامل ہیں، خواتین ریزرو سیٹ کے نمائندے بھی اس میں شامل ہیں۔

بلوچستان اسمبلی

سینیٹ کے اراکین

سینیٹ کے کم از کم 9 اراکین نے بھی اپنی رپورٹ جمع نہیں کروائی، جن میں وفاقی دارالحکومت، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے نمائندے شامل ہیں۔

سینیٹ آف پاکستان

معطل اراکین نہ تو اسمبلی یا سینیٹ کے اجلاس میں حصہ لے سکیں گے اور نہ ہی ووٹ کر سکیں گے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ رکنیت کی بحالی صرف تب ممکن ہوگی جب یہ افراد اپنی رپورٹ جمع کروائیں۔

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ یہ اقدام شفافیت اور اراکین کی ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے کہ منتخب نمائندے اپنی مالی معلومات وقت پر جمع کروائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟