چین کے مشرقی صوبے جیانگسو سے تعلق رکھنے والی ایک 50 سالہ خاتون سر درد کے علاج کے لیے کچی مچھلی کی پِتہ نگلنے کے بعد شدید بیمار ہو گئیں اور چند ہی گھنٹوں میں انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) منتقل کرنا پڑا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون جن کا نام لیو ہے، ایک روایتی عقیدے پر عمل کرتے ہوئے کچی مچھلی کی پِتہ کو دوا سمجھ کر استعمال کر بیٹھی تھیں۔ مذکورہ عقیدے کے مطابق مچھلی کا پِتہ جسم کی گرمی ختم کرنے، زہریلے مادے خارج کرنے اور آدھے سر کے درد میں مفید سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ یوٹیوب ویڈیو جو آپ نے آج دیکھنی شروع کی تو ختم 140 سال بعد ہوگی، آخر ماجرا کیا ہے؟
رپورٹ کے مطابق 14 دسمبر کو خاتون نے مقامی مارکیٹ سے تقریباً ڈھائی کلوگرام وزنی گراس کارپ مچھلی خریدی گھر پہنچ کر اس کا پِتہ نکالا اور بغیر پکائے نگل لی۔ تاہم اس اقدام کے صرف دو گھنٹے بعد انہیں شدید قے، اسہال اور پیٹ میں درد کا سامنا کرنا پڑا۔
حالت بگڑنے پر اہل خانہ انہیں فوری طور پر اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے مچھلی کے پِتہ سے زہر خورانی اور شدید جگر فیل ہونے کی تشخیص کی۔ بعد ازاں خاتون کو جیانگسو یونیورسٹی سے وابستہ اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا
یہ بھی پڑیں: ہائی وے آف ڈیتھ اور قلعہ جنگی: کہانیاں دو، انجام ایک
ڈاکٹروں کے مطابق مریضہ کو پلازما ایکسچینج تھراپی اور مسلسل گردوں کی صفائی کے عمل سے گزارا گیا۔ پانچ روزہ انتہائی علاج کے بعد خاتون کی حالت میں واضح بہتری آئی اور انہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس واقعے کی باضابطہ تصدیق 7 جنوری کو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے کی گئی۔
علاج کرنے والے معالج ڈاکٹر نے خبردار کیا کہ مچھلی کی پِتہ نہایت زہریلا ہوتی ہے اور اس کے اثرات بہت زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق چند گرام مقدار بھی جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہوتی ہے جبکہ بڑی مچھلیوں کا پِتہ بعض صورتوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی سے جھگڑے پر سسرالیوں نے داماد کی جان لی
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مچھلی کا پِتہ پکانے یا شراب میں بھگونے سے بھی غیر محفوظ ہی رہتا ہے۔ طبی ماہرین نے عوام کو توہم پرستانہ اور غیر سائنسی علاج سے اجتناب کرنے اور کسی بھی بیماری کی صورت میں مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔













