بنگلہ دیش ہر روز 20 سے 30 ہلاک شدہ بیرون ملک مقیم مزدوروں کی لاشیں واپس لارہا ہے، یہ معلومات بیورو آف مین پاور، ایمپلائمنٹ اینڈ ٹریننگ(بی ایم ای ٹی) کے ڈیٹا کی بنیاد پر وزارت بیرون ملک ملازمین کی فلاح و بہبود کے ایک اہلکار نے دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں نئے آرڈیننس سے ہزاروں ٹریول ایجنٹس بےروزگار ہونے کا خطرہ، تشویش کا اظہار
ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر (ایڈمنسٹریشن) ویج ارنرز ویلفیئر بورڈ محمد عمران کے مطابق ان اعداد و شمار میں صرف وہ مزدور شامل ہیں جو بی ایم ای ٹی میں میں رجسٹرڈ تھے، ’یہ ہلاک شدہ مزدور اسی لیے شناخت کیے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ بی ایم ای ٹی میں رجسٹرڈ تھے۔‘
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے مزدوروں کا معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے۔ ’بیرون ملک بہت سے بنگلہ دیشی مزدور غیر قانونی ہیں اور ہم ان کی شناخت نہیں کر سکتے۔‘
عمران احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شرم محسوس ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے لاعلم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: نوجوان سیاسی رہنما کے قاتل کو بھارت فرار کرانے والا ملزم گرفتار، پولیس
انہوں نے بتایا کہ وزارت کے تربیتی مراکز کے باوجود بہت سے لوگ اب بھی ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی ہجرت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ’غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ تربیت کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں اور غیر قانونی ہجرت کو تیز اور زیادہ منافع بخش سمجھتے ہیں۔‘
اطالوی ایمبیسی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ شریعت پور، مداری پور اور فرید پور اضلاع سے غیر قانونی ہجرت کرنے والے زیادہ تر لوگ اٹلی جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بی ایم ای ٹی کے مطابق 1977 سے 2025 کے دوران 24,746 بنگلہ دیشی مزدور بیرون ملک ہلاک ہوئے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں 2023 میں (1,567) اور سب سے کم 1979 میں (7) ریکارڈ کی گئیں۔
2025 میں 1,196 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک ہوئے، جبکہ 2024 میں 1,096 اور 2022 میں 1,142 ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ کی گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی، کم از کم 16 افراد ہلاک
اہلکاروں نے بتایا کہ ان میں سے رجسٹرڈ مزدوروں کو معاوضہ فراہم کیا جا چکا ہے، جس میں ایمبولینس اور جنازے کے اخراجات شامل ہیں۔













