ڈھاکا پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ نوجوان سیاسی کارکن اور انقلابی منچہ پارٹی کے رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل میں ملوث مرکزی ملزمان کو بھارت فرار کرانے میں 2 افراد نے مبینہ طور پر مدد کی۔ ان میں سے ایک، امین الاسلام، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں اور قتل کے واقعے میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر ملوث تمام افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جن میں ملزمان کے فرار کا انتظام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عثمان ہادی قتل، ڈھاکا میں بھارتی ہائی کمیشن پر حملہ، اخبارات کے دفاتر نذر آتش
پولیس کے مطابق مرکزی حملہ آور فیصل کریم مسعود اور اس کا ساتھی عالمگیر شیخ واقعے والی رات ہی ڈھاکا سے نکل گئے اور میمن سنگھ کے علاقے ہالواگھاٹ کے راستے سرحد عبور کر کے بھارت فرار ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے فرار میں مقامی عناصر نے سہولت کاری کی، جو غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت کے لیے مشہور ہیں۔
حکام کا الزام ہے کہ ڈھاکا نارتھ میں حکمران جماعت کی یوتھ ونگ کے تنظیمی سیکریٹری اور سابق وارڈ کونسلر تجل الاسلام چودھری نے ان انتظامات میں مرکزی کردار ادا کیا، جبکہ ان کے بہنوئی امین الاسلام نے معاونت کی۔ پولیس کے مطابق تجل الاسلام چودھری گزشتہ سال سے بھارت میں موجود ہیں۔
موبائل فون ڈیٹا کی مدد سے پولیس نے سرحدی علاقوں کے قریب مشتبہ نقل و حرکت کا سراغ لگایا، 2 مقامی سہولت کاروں کو حراست میں لیا اور بعد ازاں امین الاسلام کو ڈھاکا کے علاقے میرپور سے گرفتار کیا۔ عدالت نے امین الاسلام کا پانچ روزہ ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے واقعے کے دن امین الاسلام، تجل الاسلام اور ایک سرحدی ایجنٹ کے درمیان رابطوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: عثمان ہادی کے قتل میں ملوث کسی فرد کو نہیں بخشا جائے گا، بنگلہ دیش
امین الاسلام کے اہلِ خانہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے حال ہی میں نجی ملازمت چھوڑ کر موبائل فون کی تجارت شروع کی تھی اور انہیں معلوم نہیں کہ امین الاسلام کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔
شریف عثمان ہادی کو ڈھاکا-8 حلقے کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا اور وہ نچلی سطح پر سیاسی رابطہ کاری میں سرگرم تھے۔ دسمبر کے وسط میں حملے کے بعد انہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ڈھاکا میں ان کی نمازِ جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین کے مطابق اب تک قتل کے سلسلے میں 11 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔













