یمن کے وزیراعظم سالم صالح بن بیرک نے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ملک کے وزیر خارجہ کو نیا وزیر اعظم مقرر کردیا گیا، یہ اعلان سعودی حمایت یافتہ صدارتی قیادت کونسل کی جانب سے کیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم سالم صالح بن بریک نے صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی سے ملاقات کے دوران حکومت کا استعفیٰ پیش کیا تاکہ نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے تحلیل ہونے کا اعلان کر دیا
بعد ازاں صدارتی قیادت کونسل نے اعلان کیا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن زندانی کو نیا وزیر اعظم مقرر کردیا گیا ہے اور انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بیان میں وزیراعظم کے استعفے کی وجوہات میں ریاستی اداروں کی بحالی، خودمختار فیصلوں میں یکجہتی کو مضبوط بنانا اور بغاوت کو شکست دینا شامل بتایا گیا ہے۔
صدارتی قیادت کونسل کے مطابق نئی حکومت کے قیام تک موجودہ حکومت روزمرہ امور انجام دیتی رہے گی، تاہم اس دوران تقرریوں اور برطرفیوں سے گریز کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی دانشمندی کو سراہتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل نے ان علاقوں میں اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا تھا اور سعودی عرب کی سرحد کے قریب تک پیش قدمی کی تھی۔
سعودی عرب نے اس پیش رفت کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی یمن کے سیاسی مستقبل پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔














