آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان نے حالیہ برسوں میں ہندی فلم انڈسٹری میں کام کم ہونے کی وجوہات پر روشنی ڈالی، جن میں طاقت کے بدلاؤ اور ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ رویے شامل ہیں، ساتھ ہی انہوں نے اپنی فلمی موسیقی اور نئے پروجیکٹس کے تجربات پر بھی بات کی۔
یہ بھی پڑھیں:’خود کشی کے خیال آتے تھے‘ طلاق کے بعد اے آر رحمان پہلی بار منظرِ عام پر
برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں اے آر رحمان نے کہا کہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران ہندی فلموں میں ان کے کام میں کمی آئی ہے، جو کہ طاقت کے بدلاؤ اور بعض اوقات ’فرقہ وارانہ‘ عناصر کی وجہ سے ہو سکتی ہے، حالانکہ یہ ان کے سامنے براہِ راست نہیں آیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ کام کی تلاش میں نہیں رہتے بلکہ کام خود ان تک آئے، اور وہ پروجیکٹس کو صرف خلوص نیت کی بنیاد پر قبول کرتے ہیں۔

اے آر رحمان نے بتایا کہ ہندی فلموں میں ان کی شروعات 1990 کی دہائی میں غیر معمولی تھی اور سبھاش گھئی کی فلم ’تال‘نے انہیں شمالی بھارت میں گھر گھر مقبول بنایا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ اس فلم کے بعد لوگ ان کے کام سے قریب تر آئے اور ان کی موسیقی عام لوگوں کے گھروں تک پہنچی۔
یہ بھی پڑھیں:’اے آر رحمان میرے والد کی طرح ہیں‘ تعلقات کی خبروں پر موہنی ڈے پھٹ پڑیں
اے آر رحمان نے کہا کہ موجودہ طاقت کے مراکز میں اب زیادہ تر غیر تخلیقی لوگ فیصلہ سازی کرتے ہیں، اور اس تبدیلی کا اثر کبھی کبھار غیر واضح انداز میں ان تک پہنچتا ہے، لیکن وہ اسے ذاتی طور پر برا نہیں مانتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ منفی نیت والی فلموں میں کام نہیں کرتے اور ہر پروجیکٹ کے اخلاقی پہلو پر غور کرتے ہیں۔
انہوں نے نے یہ بھی کہا کہ عوام خود صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فلموں کے ذریعے صرف مثبت پیغام دیا جانا چاہیے۔













