اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر افواجِ پاکستان اور عدلیہ کے خلاف کسی بھی قسم کی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔
’تاہم اگر اپوزیشن لیڈر ذمہ دارانہ اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے گفتگو کریں گے تو انہیں ایوان میں اظہارِ خیال کا پورا موقع دیا جاتا رہے گا۔‘
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ان کا مشورہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں آ کر عوامی خدمت کا عمل جاری رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، لیکن ان کی ذمہ داری ہے کہ ایوان میں پاکستان یا قومی اداروں کے خلاف کوئی بات نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیکر قومی اسمبلی کی سیاسی کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش
سردار ایاز صادق نے ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے، ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے دوستانہ تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس سے پاکستان کے سفارتی تعلقات نہ ہوں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ہر ملک کی طرح پاکستان میں بھی مختلف مافیا سرگرم ہیں، تاہم حق اور سچ کے راستے میں یہی عناصر رکاوٹ بنتے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر ہو چکی ہے، اور امریکا، چین، روس، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے اہم ممالک کے ساتھ تعلقات مزید بہتر ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مسائل کا حل صرف سیاسی مکالمے میں ہے، اسپیکر قومی اسمبلی کی اپوزیشن رہنماؤں سے گفتگو
ایاز صادق نے کہا کہ صرف ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ مسائل درپیش ہیں جو پاکستان میں دہشت گردی اور بے گناہ جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔
سردار ایاز صادق نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ وہ کسی دباؤ کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم سے مشاورت ضرور کرتے ہیں، تاہم وزیراعظم کبھی انہیں کسی معاملے پر روک ٹوک نہیں کرتے۔
ان کے مطابق مشاورت جمہوری عمل کا حسن ہے اور جتنے زیادہ لوگوں سے مشورہ کیا جائے، فیصلے اتنے ہی بہتر ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی کا دورۂ بنگلہ دیش، بیگم خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت اور چیف ایڈوائزر سے ملاقات
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو بھی ملک دشمن بات کرے گا اسے ایوان میں روکا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ قواعد میں کہیں یہ لازم نہیں کہ اپوزیشن لیڈر کو ہر صورت فلور دیا جائے، تاہم اگر وہ تعمیری اور درست بات کریں گے تو انہیں بولنے کا حق ضرور ملے گا۔
آخر میں اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر کوئی عناصر ایوان کا ماحول خراب کرنا یا ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر کے دیکھ لیں، اس سے ملک کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔













