برطانوی وزیرِاعظم کا ٹرمپ کو سخت پیغام، نیٹو اتحادیوں پر ٹیرف کو ’غلط قدم‘ قرار دے دیا

اتوار 18 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کے یورپی اتحادیوں پر مجوزہ تجارتی پابندیوں کو کھلے الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے اتحادِ نیٹو کے اجتماعی تحفظ کے خلاف قرار دیا ہے۔ اسٹارمر کا کہنا ہے کہ اتحادی ممالک پر ٹیرف عائد کرنا نہ صرف غلط بلکہ ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نیٹو کے اتحادیوں کی اجتماعی سلامتی کے لیے کیے گئے اقدامات پر انہیں سزا دینا سراسر غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گرین لینڈ تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ اور یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان

انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ، ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کو کرنا ہے۔ اسٹارمر نے یہ بھی کہا کہ آرکٹک خطے کی سلامتی پورے نیٹو کے لیے اہم ہے اور اتحادیوں کو باہمی تعاون سے خطرات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ڈنمارک، برطانیہ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ سمیت کئی یورپی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

ٹرمپ کے مطابق اگر یکم جون تک امریکا اور گرین لینڈ کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ امریکی صدر گرین لینڈ کو قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس کی ’مکمل اور حتمی خریداری‘ پر زور دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ ٹیرف: یورپی یونین نے جوابی کارروائی کے لیے سر جوڑ لیے

یورپی ردعمل بھی خاصا سخت رہا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے امریکی اقدام کو ناقابلِ قبول اور دباؤ کی سیاست قرار دیا، جبکہ سویڈن کے وزیرِاعظم اولف کرسٹرسن نے کہا کہ ان کا ملک بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گا۔ فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب نے خبردار کیا کہ تجارتی دباؤ خطرناک سلسلے کو جنم دے سکتا ہے۔

یورپی یونین کے اعلیٰ حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے امریکا اور یورپ کے تعلقات کمزور ہوں گے، جس کے بعد یورپی سفیروں کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور روس و چین کے اثرورسوخ کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔ تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت مسلسل یہ واضح کرتی آئی ہے کہ یہ خطہ فروخت کے لیے نہیں اور اس کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران جنگ بندی سے اسرائیل ناخوش، امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازشیں

جنگ بندی کی خلاف ورزی، لبنان کا پاکستان سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

وفاقی کابینہ اجلاس: اراکین کا امریکا ایران جنگ بندی پر وزیراعظم، وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین

’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف کا مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟