ڈھاکہ میں اپوزیشن طلبا تنظیم کا الیکشن کمیشن کے سامنے پرامن دھرنا

اتوار 18 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

۔

بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی طلبا تنظیم نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کرتے ہوئے کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے باہر دھرنا دیا۔

طلبا تنظیم جاتیاتابادی چھاترا دل (جے سی ڈی) کی جانب سے یہ دھرنا صبح تقریباً 11 بجے شروع ہوا، جس میں مظاہرین نے رات تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں: غیرقانونی اسلحہ اور جعلی کرنسی کی ترسیل، بنگلہ دیش میں انتخابات پر منڈلاتے خطرات

آئندہ قومی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی مبینہ جانبداری کیخلاف احتجاج میں جے سی ڈی کے مرکزی صدر رقیب الاسلام رقیب، جنرل سیکریٹری ناصرالدین ناصر، دیگر سینیئر رہنما اور مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارکنان شریک ہوئے۔

سیکیورٹی اہلکاروں نے الیکشن کمیشن کے مرکزی دروازے کے سامنے رکاوٹیں لگا رکھی تھیں، تاہم مظاہرین نےان کے سامنے سڑک پر بیٹھ کر نعرے لگائے اور تقاریر کیں۔

میڈیا سے گفتگو میں جے سی ڈی کے جنرل سیکریٹری ناصرالدین ناصر نے الزام عائد کیا کہ ’ایک مخصوص حلقہ‘ آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی ان کی تنظیم سخت مذمت کرتی ہے۔

پوسٹل بیلٹ تنازع

ناصرالدین ناصر نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ اس نے 13ویں جاتیہ سنگساد (قومی پارلیمان) کے انتخابات کے لیے پوسٹل بیلٹ کے معاملے پر ’انتہائی جانبدارانہ اور مشکوک‘ فیصلے کیے ہیں۔

ان کے مطابق ان فیصلوں سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، لہٰذا اس مسئلے کا فوری حل ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش ہر روز کتنے مزدوروں کی لاشیں بیرون ملک سے واپس لاتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک مخصوص سیاسی گروہ کے دباؤ میں آکر ذمہ دارانہ اور منطقی فیصلے کرنے میں ناکام رہا۔

’عجلت میں کیے گئے فیصلوں نے ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ اور خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔‘

شاہ جلال یونیورسٹی سے متعلق متنازع فیصلہ

ناصرالدین ناصر کے مطابق الیکشن کمیشن نے پہلے شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں طلبا یونین کے انتخابات سے متعلق ایک فیصلہ کیا، لیکن بعد میں سیاسی دباؤ کے باعث اس سے پیچھے ہٹ گیا، جو ان کے بقول ایک غیر معمولی اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔

جے سی ڈی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا ایک پُرامن احتجاج ہے، جس کا مقصد انتخابی عمل کی شفافیت اور اداروں کی خودمختاری کا تحفظ ہے۔

تاحال الیکشن کمیشن نے ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آسٹریلوی تاجر چینی جاسوسوں کو معلومات دینے کے جرم میں قصوروار قرار

دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے