۔
بنگلہ دیش کی مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی طلبا تنظیم نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کرتے ہوئے کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے باہر دھرنا دیا۔
طلبا تنظیم جاتیاتابادی چھاترا دل (جے سی ڈی) کی جانب سے یہ دھرنا صبح تقریباً 11 بجے شروع ہوا، جس میں مظاہرین نے رات تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: غیرقانونی اسلحہ اور جعلی کرنسی کی ترسیل، بنگلہ دیش میں انتخابات پر منڈلاتے خطرات
آئندہ قومی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی مبینہ جانبداری کیخلاف احتجاج میں جے سی ڈی کے مرکزی صدر رقیب الاسلام رقیب، جنرل سیکریٹری ناصرالدین ناصر، دیگر سینیئر رہنما اور مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارکنان شریک ہوئے۔
Election Commision's position on controversial postal ballots must be clarified: Chhatra Dal Leaders (BNP)#PostalBallot #ElectionCommission #Controversial pic.twitter.com/Nja54m16xt
— Battalion71 🇧🇩 (@ImbusyWarrior) January 18, 2026
سیکیورٹی اہلکاروں نے الیکشن کمیشن کے مرکزی دروازے کے سامنے رکاوٹیں لگا رکھی تھیں، تاہم مظاہرین نےان کے سامنے سڑک پر بیٹھ کر نعرے لگائے اور تقاریر کیں۔
میڈیا سے گفتگو میں جے سی ڈی کے جنرل سیکریٹری ناصرالدین ناصر نے الزام عائد کیا کہ ’ایک مخصوص حلقہ‘ آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی ان کی تنظیم سخت مذمت کرتی ہے۔
پوسٹل بیلٹ تنازع
ناصرالدین ناصر نے الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ اس نے 13ویں جاتیہ سنگساد (قومی پارلیمان) کے انتخابات کے لیے پوسٹل بیلٹ کے معاملے پر ’انتہائی جانبدارانہ اور مشکوک‘ فیصلے کیے ہیں۔
ان کے مطابق ان فیصلوں سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، لہٰذا اس مسئلے کا فوری حل ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش ہر روز کتنے مزدوروں کی لاشیں بیرون ملک سے واپس لاتا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ایک مخصوص سیاسی گروہ کے دباؤ میں آکر ذمہ دارانہ اور منطقی فیصلے کرنے میں ناکام رہا۔
’عجلت میں کیے گئے فیصلوں نے ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ اور خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے۔‘
شاہ جلال یونیورسٹی سے متعلق متنازع فیصلہ
ناصرالدین ناصر کے مطابق الیکشن کمیشن نے پہلے شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں طلبا یونین کے انتخابات سے متعلق ایک فیصلہ کیا، لیکن بعد میں سیاسی دباؤ کے باعث اس سے پیچھے ہٹ گیا، جو ان کے بقول ایک غیر معمولی اور ناقابلِ قبول اقدام ہے۔
جے سی ڈی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ دھرنا ایک پُرامن احتجاج ہے، جس کا مقصد انتخابی عمل کی شفافیت اور اداروں کی خودمختاری کا تحفظ ہے۔
تاحال الیکشن کمیشن نے ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔













