’گل پلازہ کی آگ اور وہ ادھوری خریداری جو کبھی مکمل نہ ہو سکی‘

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

کراچی کی فضا میں آج صرف دھواں نہیں، سسکیاں اور ناامیدی بھی رچی ہوئی ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگی آگ تو تھم گئی، لیکن بجھنے والی آگ سے کہیں زیادہ شدید تپش اس ماں اور اس بہن کے دل میں ہے جو اسپتال اور پلازہ کے باہر دیوانہ وار اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

ایک متاثرہ خاتون کی آواز میں چھپا کرب پتھروں کو بھی پگھلا دینے کے لیے کافی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے خاندان کے 6 افراد، جن کے چہروں پر شادی کی خریداری کی چمک تھی، آج اسی عمارت کے ڈھیر میں کہیں کھو گئے ہیں۔

آخری بار جب فون پر بات ہوئی تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ بس 10 منٹ میں خریداری ختم کر کے باہر آ رہے ہیں۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ 10 منٹ کبھی ختم نہیں ہوں گے اور وہ رابطہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے گا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ تمام فون بند ہیں اور رابطے کی ہر ڈور کٹ چکی ہے۔ وہ خاتون جن کی آنکھوں کے سامنے اب صرف بربادی کا منظر ہے، دہائی دیتے ہوئے کہتی ہیں، کوئی تو باہر آ جائے، کوئی تو زندہ بچا ہو، یہ منظر اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا۔

بدقسمتی سے وہ امیدیں جو ایک شادی کے گھر میں چراغاں کرنے والی تھیں، اب بجھ چکی ہیں۔ گل پلازہ کی یہ آگ شاید بجھ جائے، لیکن ان خاندانوں کے دلوں میں لگی یہ آگ کبھی نہیں بجھ سکے گی جن کے پیارے ’ 10 منٹ‘ کا کہہ کر ابدی نیند سو گئے۔

خوابوں کی تعبیر، بجٹ کے اندر

سارہ، جن کی شادی پچھلے ماہ ہوئی، بتاتی ہیں کہ وہ اپنے جہیز کی خریداری کو لے کر کافی فکر مند تھیں۔ آج کل کی مہنگائی میں برانڈڈ اسٹورز پر جانا جیب پر بھاری پڑتا ہے، لیکن گل پلازہ نے میری مشکل آسان کر دی تھی۔ یہاں آپ کو ایک ہی چھت کے نیچے کچن کے چمچ سے لے کر بیڈروم کے کمفرٹر سیٹ تک سب کچھ مل جاتا ہے۔

سارہ نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت فرسٹ فلور اور بیسمنٹ میں گزارا تھا۔ میں نے وہاں سے ایک ایسا ڈنر سیٹ خریدا جو بالکل وہی ڈیزائن تھا جو میں نے ایک بڑے مال میں دگنی قیمت پر دیکھا تھا۔ بس آپ کو تھوڑی محنت کرنی پڑتی تھی اور دکانوں کے چکر لگانا پڑتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ آتشزدگی سانحہ: تاجروں کے الائنس نے کل یوم سوگ منانے کا اعلان کردیا

سارہ کے مطابق انہوں نے وہاں سے استری، سینڈوچ میکر اور مائیکرو ویو اوون خریدا۔ ان کا کہنا تھا کہ وارنٹی کارڈز اور قیمتوں میں رعایت یہاں کا پلس پوائنٹ ہے۔ دلہن کے لیے ریشمی کڑھائی والے کمفرٹر سیٹس کی ورائٹی نے انہیں بہت متاثر کیا۔ گھر کو سجانے کے لیے کرسٹل کے شو پیسز اور لیمپس کی ایک بڑی رینج وہاں دستیاب تھی۔

گل پلازہ میں تو چور کے بھاگنے کا راستہ نہیں تھا

خاتون صحافی مانیہ شکیل نے وی نیوز کو بتایا کہ چند روز قبل انہیں خریداری کے لیے گل مال جانا تھا، لیکن سوچا قریب ہی موجود گل پلازہ کا بھی چکر لگا لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور سے ہوتے ہوئے بیسمنٹ میں گئی تو وہاں جا کر اندازہ ہوا کہ کوئی ایگزٹ نہیں ہے۔ ایک ہی انٹرنس اور ایک ہی ایگزٹ ہے۔

مانیہ شکیل کا مزید کہنا تھا کہ کچھ اسی طرح کی صورتحال گراؤنڈ فلور کی بھی تھی، جہاں کوئی خاص احتیاطی تدابیر نہیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ جگہ جگہ جنریٹرز کا ہونا ہے، کیونکہ وہاں لوڈشیڈنگ کا بھی مسئلہ تھا۔ مانیہ شکیل کے مطابق کچھ ایسی ہی صورتحال پہلی منزل پر بھی دیکھنے میں آئی۔

مانیہ کے مطابق یہ کراچی میں شادی کا سیزن ہے اور یہ مارکیٹ اس حوالے سے الگ پہچان رکھتی تھی کہ یہاں شادیوں کے سیزن میں اہلِ کراچی خریداری کے لیے آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتفاق سے ہماری موجودگی میں ہی وہاں بجلی چلی گئی اور پھر جنریٹرز اسٹارٹ ہوئے، جس کے بعد روشنی تو ہو گئی لیکن شور اتنا تھا کہ خریدار پریشان ہو جائیں۔

مانیہ کا کہنا تھا کہ اس دن اتفاق سے ہم یہی بات کر رہے تھے کہ یہاں اگر کوئی چوری کر کے بھاگے تو اس کے لیے بھی جگہ نہیں، ایسے میں اللہ نہ کرے کہ کوئی حادثہ ہوجائے تو لوگ یہاں سے کیسے نکلیں گے۔ گل پلازہ کی کھڑکیوں سے ایمرجنسی میں نکلنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی تھی۔

مجھے کیا پتا تھا کہ گھر پر موجود اشیا گل پلازہ کی آخری نشانیاں ہوں گی

کراچی کی رہائشی سبرینہ علی، گل پلازہ میں آگ لگنے سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات پر تو اداس ہیں، لیکن ان کی اداسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسی مارکیٹ، جہاں مناسب داموں پر اچھی اشیا مل جاتی تھیں، اب ہم اس سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں وہاں سے ڈیکوریشن کی اشیا اور بچوں کے کپڑے اکثر خریدتی تھی، اور یہاں کی مجھے یہ بات اچھی لگتی تھی کہ اشیا کی کوالٹی اچھی ہوتی تھی اور وہ بھی مناسب داموں پر۔ بچوں کے کھلونے ہوں یا اسٹڈی ٹیبل، یہ میرے گھر میں موجود وہ اشیا ہیں جو گل پلازہ کی آخری نشانیاں ہیں۔

یہ نقصان ہم سب کا ہے

کراچی کی رہائشی کسا فاطمہ کا کہنا ہے کہ شادی سے لے کر شادی کے بعد اور بچوں کی پیدائش کے بعد گل پلازہ میری خریداری کے لیے آل اِن ون پلازہ تھا۔ وہاں جانے کا مطلب ہوتا تھا کہ مناسب داموں پر ہر چیز مل جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ قبل ہی میں وہاں ہو کر آئی تھی۔ ہمارے ہاں ابھی ایک شادی ہوئی، ساری خریداری وہیں سے کی گئی، اور خاص بات یہ ہے کہ اگر آپ کسی بھی وجہ سے جا نہیں پا رہے تو گل پلازہ سے آن لائن بھی منگوا لیا جاتا تھا۔ مجموعی طور پر ہم سب کا نقصان ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت میں مسیحی پادری کو زبردستی گوبر کھلانے کا واقعہ، ملزموں کی گرفتاری تاحال نہ ہوسکی

جیل میں قید 2 قاتل باہم محبت میں گرفتار، آج شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے

پاکستان کا سیٹلائٹ امیجری اور اے آئی کے ذریعے بحری تحفظ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کا منصوبہ

ڈھاکا میں ماریا بی آؤٹ لیٹ کا افتتاح، بنگلہ دیش میں داخل ہونے والی پہلی بین الاقوامی خواتین فیشن برانڈ قرار

صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم سے ‘غزہ بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی

ویڈیو

کوئٹہ اور بالائی علاقوں میں برفباری کے بعد سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی سرگرمیوں میں اضافہ

چکوال کی سائرہ امجد کا منفرد آرٹ: اسٹیل وول اور ایکرلیک سے فطرت کی عکاسی

وی ایکسکلوسیو: پی ٹی آئی دہشتگردوں کا سیاسی ونگ ہے اسی لیے اس پر حملے نہیں ہوتے، ثمر بلور

کالم / تجزیہ

کیمرے کا نشہ

امریکی خطرناک ہتھیار جس نے دیگر سپرپاورز کو ہلا دیاٖ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے