ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضائی آلودگی، خصوصاً ٹریفک اور صنعتی دھوئیں، مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گنجان شہری علاقوں یا بڑی سڑکوں کے قریب رہنے والے مردوں میں اس مرض کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے فضائی آلودگی کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے، کیونکہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آلودگی پروسٹیٹ کینسر کے آغاز میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ برطانیہ میں ہر سال تقریباً 12 ہزار مرد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے دنیا بھر میں فضائی آلودگی سے روزانہ کتنے بچوں کی اموات ہوتی ہیں؟
یہ تحقیق برطانیہ میں 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد مردوں کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ نتائج کے مطابق وہ افراد جو زیادہ آلودہ علاقوں میں رہتے تھے، ان میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کا امکان 6.9 فیصد زیادہ پایا گیا، بہ نسبت ان مردوں کے جو کم آلودگی والے علاقوں میں مقیم تھے۔
نائٹریٹ (NO3) سب سے بڑا خطرہ قرار
تحقیق میں فضائی آلودگی کے مختلف اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں نائٹریٹ (NO3) کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔ نائٹریٹ کاروں کے دھوئیں اور زرعی سرگرمیوں سے پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس کے کینسر پیدا کرنے کے درست طریقۂ کار کی مکمل وضاحت نہیں ہو سکی، تاہم یہ بات پہلے سے معلوم ہے کہ نائٹروجن (جو NO3 کا اہم جز ہے) کینسر کے خلیات کی افزائش کو فروغ دے سکتی ہے۔
ماضی کی بیشتر تحقیقات میں PM2.5 نامی نہایت باریک زہریلے ذرات پر توجہ دی گئی، جو انسانی بال سے بھی کہیں زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں اور پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں۔
یہ ذرات گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی اور زرعی اخراج، اور گھریلو ایندھن جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔
13 سال سے زائد عرصے تک مردوں کی نگرانی
نئی تحقیق میں 2 لاکھ 24 ہزار مردوں کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 58 سال تھی۔ انہیں 13.7 سال تک فالو کیا گیا، جس دوران تقریباً 5 فیصد افراد میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔
مزید پڑھیں: مردانہ بانجھ پن اور فضائی آلودگی، سائنس کیا کہتی ہے؟
ماہرین نے شرکا کی رہائش گاہوں کے پوسٹ کوڈز کی بنیاد پر ان کے فضائی آلودگی سے متاثر ہونے کی سطح کا اندازہ لگایا۔
ماہرین کی رائے: رہائش بھی اتنی ہی اہم جتنی جینیات
جرنل آف یورولوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پیکنگ یونیورسٹی (چین) کے سائنس دانوں نے لکھا ’ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروسٹیٹ کینسر کے معاملے میں صرف جینیات (آپ کون ہیں) اور طرزِ زندگی (آپ کیا کرتے ہیں) ہی نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ آپ کہاں رہتے ہیں۔‘
ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا کہ نائٹریٹ کے اخراج کے ذرائع، خصوصاً ٹریفک اور زرعی سرگرمیوں، کو ہدف بنا کر کم کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔














