سپریم کورٹ میں وکلا کی عدم پیشی پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا سخت ردعمل، صدر بار طلب

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ میں وکلا کی مسلسل عدم پیشی کے باعث چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار ہارون الرشید کو طلب کر لیا۔ عدالت میں وکلا کی غیر حاضری پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور ویڈیو لنک کی سہولت کے باوجود کیسز ملتوی کرنے کی درخواستوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ایک سال مکمل، سپریم کورٹ میں کیا کچھ بدلا؟

سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک طرف جلد سماعت کی درخواستیں دائر کی جاتی ہیں، مگر دوسری طرف وکلا پیش نہیں ہوتے۔ عدالت میں ویڈیو لنک کی سہولت دستیاب ہونے کے باوجود وکلا اسلام آباد نہیں پہنچتے۔

جسٹس شاہد بلال نے بتایا کہ وکلا کی جانب سے کیسز ملتوی کرنے کی درخواستیں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بار کے ذریعے وکلا کو پابند کیا جائے تاکہ عدالت میں حاضری یقینی بنائی جا سکے۔

صدر سپریم کورٹ بار ہارون الرشید نے کہا کہ پیش نہ ہونے والے وکلا پر جرمانہ کیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے سختی سے کہا کہ پہلی دفعہ جرمانہ نہیں کرتے، لیکن وکلا کو پابند کرنا ضروری ہے تاکہ عدالت کے نظام کو نقصان نہ پہنچے۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت میں وکلا کی غیر حاضری سماعت کے عمل اور عدالتی کارروائی کو متاثر کر رہی ہے، اس لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp