دنیا کی قدرتی تاریک راتیں مستقبل میں مزید روشن ہو سکتی ہیں، کیونکہ ایک امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی نے خلا میں بڑے آئینے نصب کرنے کا متنازع منصوبہ پیش کیا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر گیا تو زمین کے رات کے آسمان کی قدرتی تاریکی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
کیلیفورنیا میں قائم اسٹارٹ اپ Reflect Orbital ہزاروں بڑے خلائی آئینے زمین کے مدار میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان آئینوں کا مقصد سورج کی روشنی کو رات کے وقت واپس زمین کی طرف منعکس کرنا ہے، تاکہ شہروں یا سولر پاور اسٹیشنز کو اضافی روشنی فراہم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے چاند پر تاریخ کا پہلا ہوٹل بنانے کا منصوبہ، خلائی سیاحت کی جانب بڑا قدم
کمپنی کے مطابق اس منصوبے کے تحت تقریباً 4 ہزار ریفلیکٹر سیٹلائٹس خلا میں چھوڑے جائیں گے، جن میں سے ہر آئینہ 55 میٹر تک چوڑا ہو سکتا ہے۔
رات میں دن جیسی روشنی، سولر پاور بڑھانے کا دعویٰ
Reflect Orbital کا کہنا ہے کہ یہ آئینے رات کے وقت اُن علاقوں کو روشنی فراہم کریں گے جہاں بجلی یا سورج کی روشنی دستیاب نہیں ہوتی۔ کمپنی کے مطابق اس سے رات میں سولر پینلز کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے، جو عام طور پر سورج غروب ہونے کے بعد غیر فعال ہو جاتے ہیں۔
سائنس دانوں اور ماہرین ماحولیات نے اس منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قدرتی تاریکی زمین کا ایک نایاب اور نازک مشترکہ اثاثہ ہے، جس کا ختم ہونا انسانی صحت، جنگلی حیات اور سائنسی تحقیق کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ فلکیات سب سے زیادہ تشویش میں
فلکیاتی برادری اس منصوبے سے سب سے زیادہ پریشان ہے۔ ناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر الیخاندرو ایس بورلاف کی تحقیق کے مطابق موجودہ سیٹلائٹس ہی پہلے سے فلکیاتی مشاہدات میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
چمکدار سیٹلائٹس دوربینوں کی تصاویر پر روشن لکیریں ڈال دیتے ہیں، جس سے آسمان میں مدھم اور دور موجود اجسام کو دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
طلوع و غروب کے وقت سب سے زیادہ اثر
Reflect Orbital کے آئینے سن سنکرونس مدار (Sun-synchronous orbit) میں رکھے جائیں گے، جو دن اور رات کی سرحد کے ساتھ حرکت کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مدار میں آئینے طلوع اور غروبِ آفتاب کے وقت سب سے زیادہ روشن دکھائی دیں گے، جو فلکیاتی مشاہدات اور قدرتی حیاتیاتی عمل کے لیے انتہائی اہم اوقات ہوتے ہیں۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) Reflect Orbital کے پہلے آزمائشی سیٹلائٹ Earendil-1 کے لائسنس پر غور کر رہا ہے، جس کا تجربہ اپریل 2026 کے ابتدائی مہینوں میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ: روس کی خلائی دوڑ میں نیا قدم
کمپنی کے مطابق مخصوص علاقوں میں موجود افراد آسمان میں ایک تیز روشنی کو حرکت کرتے دیکھ سکیں گے۔
اگرچہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ آئینہ روشنی کو موڑ دے گا، ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی پھیلاؤ (Atmospheric diffusion) کے باعث روشنی ہدف سے ہٹ کر بھی پھیل سکتی ہے۔
بعض اندازوں کے مطابق یہ منعکس شدہ روشنی پورے چاند سے کئی گنا زیادہ روشن ہو سکتی ہے اور 96 کلومیٹر تک کے علاقے میں نظر آ سکتی ہے۔
ماحول اور قدرتی حیات پر ممکنہ اثرات
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ روشنی کا دورانیہ مختصر ہوگا، مگر یہ دوربینوں کے ڈیٹا، جانوروں کی نیند، پرندوں کی نقل و حرکت اور قدرتی نظام کو بڑے پیمانے پر متاثر کر سکتا ہے۔













