مشہور بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ نے حال ہی میں اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی سے وقفہ لینے کے اعلان کے بعد میڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام اسٹوریز کے ذریعے ایک مختصر مگر معنی خیز پیغام شیئر کیا، جسے چند ہی منٹوں بعد حذف کر دیا گیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ان کی مجموعی دولت اور طرزِ زندگی بھی زیرِ بحث آ گئی ہے۔
نیہا ککڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس وقت ذمہ داریوں، تعلقات اور کام سے مکمل طور پر دور رہنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے مداحوں اور پاپارازی سے گزارش کی کہ اس دوران ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے اور ان کی تصاویر یا ویڈیوز نہ بنائی جائیں۔ تاہم اس اعلان کے فوراً بعد انہوں نے یہ پیغام سوشل میڈیا سے ہٹا دیا جس سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔
یہ بھی پڑھیں: نیہا ککڑ کس پاکستانی گلوکار کی مداح؟
انسٹاگرام پر شیئر کیے گئے پیغام میں نیہا ککڑ نے لکھا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ میں ذمہ داریوں، رشتوں، کام اور ہر اُس چیز سے وقفہ لوں جس کے بارے میں اس وقت سوچ سکتی ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں واپس آؤں گی یا نہیں۔ شکریہ‘۔
ایک اور پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’میں پاپارازی اور مداحوں سے درخواست کرتی ہوں کہ مجھے فلم نہ کریں۔ براہِ کرم میری پرائیویسی کا احترام کریں اور مجھے سکون سے جینے دیں۔ کیمرے بند رکھیں، یہ کم از کم آپ میرے ذہنی سکون کے لیے کر سکتے ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی نیہا ککڑ یا غریبوں کی آریانا گرانڈے، آئمہ بیگ تنقید کی زد پر
انہوں نے اپنے اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی تاہم سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ ان کا یہ اقدام حال ہی میں ریلیز ہونے والے گانے کینڈی شاپ پر ہونے والی تنقید اور ٹرولنگ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی انہیں اپنی گائیکی کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔
نیہا ککڑ کے اچانک فیصلے کے بعد ان کی مالی حیثیت بھی خبروں کا موضوع بن گئی ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیہا ککڑ کی مجموعی دولت تقریباً 105 کروڑ بھارتی روپے ہے۔ ان کی آمدنی کے اہم ذرائع میں لائیو پرفارمنسز، پلے بیک سنگنگ، برانڈ اینڈورسمنٹس اور ٹیلی ویژن شو اور میڈیا پروگرامز میں شرکت شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف امریکی پاپ گلوکارہ بیونسے دنیا کی پانچویں ارب پتی موسیقار بن گئیں
نیہا ممبئی میں تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کے ایک پرتعیش اپارٹمنٹ کی مالک ہیں، جبکہ اتراکھنڈ کے شہر رشی کیش میں ان کا ایک شاندار بنگلہ بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ، ان کے پاس مہنگی گاڑیوں کا ایک قابلِ ذکر ذخیرہ بھی ہے، جس میں اوڈی Q7، مرسڈیز بینز GLS 350 اور بی ایم ڈبلیو 7 سیریز شامل ہیں۔













