کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے، جب کہ اب تک 73 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
سندھ حکومت کی قائم کردہ ہیلپ ڈیسک کے مطابق گزشتہ روز 70 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ مزید 3 افراد کے نام آج فہرست میں شامل کیے گئے ہیں، جن میں متعدد خواتین بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: گل پلازہ سانحہ: وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ طویل کوششوں کے بعد عمارت میں لگنے والی آگ بڑی حد تک بجھا دی گئی ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ لاپتا افراد کی تلاش کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔
حکام کے مطابق ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی شب تقریباً سوا 10 بجے گراؤنڈ فلور پر شروع ہوئی، جو تیزی سے اوپر کی منزلوں تک پھیل گئی۔
حقیقی اور باشعور کراچی والے جو گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے دوران ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
جو آگ بجھانےاور اندرپھنسے افراد کو نکالنے والے اہلکاروں کو سپورٹ کر رہے ہیں،
ان کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں اور ان تک کھانا پینا پہنچا رہے ہیں۔
یہی ہے کراچی کی اصل پہچان۔ pic.twitter.com/SgYCsiBmcD— Meer Haseeb Gorgage (@HaseebGorgage) January 19, 2026
’شدید آتشزدگی کے باعث عمارت کے مختلف حصے منہدم ہو گئے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ متاثرہ افراد کے لواحقین کئی گھنٹوں تک جلتی ہوئی عمارت کے باہر بے بسی کے عالم میں اپنے پیاروں کا انتظار کرتے رہے۔‘
فائر بریگیڈ نے 33 گھنٹے کی مسلسل جدوجہد کے بعد آگ پر مکمل قابو پایا، جس کے بعد فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل ہوئے اور محدود پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا۔
اس دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا برآمد ہوئے، جنہیں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ اب تک سانحہ گل پلازہ میں 26 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
کراچی پولیس چیف نے تخریب کاری کا امکان مسترد کردیا
دریں اثنا کراچی پولیس چیف آزاد خان نے ابتدائی تحقیقات کے بعد واقعے میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔
چیف فائر آفیسر کے مطابق ہفتے کی شب 10 بج کر 14 منٹ پر گل پلازہ میں واقع آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی دکان میں آگ بھڑکی، جس کی اطلاع 10 بج کر 38 منٹ پر ریسکیو 1122 کو دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ 1122 کے دو فائر ٹینڈرز 10 بج کر 57 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچے، تاہم عمارت کے تنگ داخلی و خارجی راستوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
چیف فائر آفیسر نے مزید بتایا کہ عمارت کے تمام داخلی اور خارجی راستے دھوئیں سے بھر گئے تھے، جبکہ آگ بجھانے کے دوران دو سے تین گھنٹوں تک پانی کی قلت کا سامنا رہا۔
’پانی کی فراہمی کے لیے آنے والے ٹینکر گرومندر کے قریب جاری تعمیراتی کام میں پھنس گئے، جبکہ ہجوم اور ٹریفک کے باعث بھی مسائل پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی دن فوم کا استعمال کیا گیا تھا۔‘
انہوں نے بتایا کہ عمارت کے تین مختلف حصے گر چکے ہیں اور پلازہ اب مخدوش حالت میں ہے۔ موقع پر تاحال 12 فائر ٹینڈرز، 6 واٹر باؤزر اور 2 اسنارکل موجود ہیں۔ آگ پر 90 فیصد قابو پا لیا گیا ہے، تاہم عمارت کے اندر موجود سامان میں اب بھی 10 فیصد آگ باقی ہے، جبکہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانوں میں لگی آگ رات گئے مکمل طور پر بجھا دی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے ورثا کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ جن تاجروں کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، ان کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں متاثرین کو معاوضہ دیا گیا اور اس بار بھی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ میں ایک ہزار سے 12 سو کے قریب دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔
میتوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ممکن ہو سکے گی، ڈی آئی جی ساؤتھ
ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ اب تک 6 ڈیڈ باڈیز کی شناخت ہوچکی ہے، جبکہ دیگر کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ممکن ہوسکے گی۔
انہوں نے کہاکہ 32 لاپتا افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ کی معلوم ہوئی ہے، پلازے میں صرف ریسکیو حکام کو داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: خاکستر ہونے والے گل پلازہ میں ٹارچ کی روشنی امید کی کرن
ڈی آئی جی کے مطابق کسی بھی غیر مجاز فرد کو عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے، ریسکیو ادارے پولیس کی مکمل معاونت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔














