گل پلازہ سانحہ: وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان

پیر 19 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہونے والی ہولناک آتشزدگی نے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ واقعے میں درجنوں افراد لاپتا ہیں جبکہ کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جائے حادثہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کی پیشرفت، جانی و مالی نقصانات، متاثرین کے لیے امدادی پیکج اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے اہم فیصلوں کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں:خاکستر ہونے والے گل پلازہ میں ٹارچ کی روشنی امید کی کرن

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی آتشزدگی میں اب تک 15 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 65 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید لاشیں بھی ملبے سے برآمد ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائر فائٹرز 3 مختلف مقامات سے عمارت کے اندر داخل ہوئے ہیں اور انتہائی خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس دوران ایک فائر فائٹر شہید بھی ہوا، جس پر وزیراعلیٰ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید فائر فائٹر کے والد بھی اسی شعبے سے وابستہ تھے، جو اس قربانی کو مزید قابلِ احترام بنا دیتا ہے۔

مراد علی شاہ کے مطابق آتشزدگی کے باعث گل پلازہ کی عمارت شدید طور پر کمزور ہو چکی ہے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر پوری عمارت کو گرانے کا فیصلہ بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تاجربرادری کے ساتھ فوری میٹنگ کی گئی ہے تاکہ موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی جا سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ان اداروں سے بھی اپیل کی جن کے پاس جدید آلات اور وسائل موجود ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر ریسکیو اور بحالی کے عمل میں حکومت کی مدد کریں۔

یہ بھی پڑھیں:فائر فائٹر فرقان علی، جو باپ کی روایت نبھا کر گل پلازہ کی آگ بجھاتے امر ہوگئے

پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے مالی امداد دی جائے گی۔ اس کے علاوہ جن تاجروں کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، ان کے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات میں متاثرین کو معاوضہ دیا گیا اور اس بار بھی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ میں ایک ہزار سے 12 سو کے قریب دکانیں مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہوگی کہ متاثرہ تاجروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی شفاف انکوائری کمشنر کراچی کی سربراہی میں شروع کی جا رہی ہے۔ جو بھی کوتاہیاں سامنے آئیں گی انہیں درست کیا جائے گا تاکہ آئندہ اس نوعیت کے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ وزرا کو ہدایت دی ہے کہ لواحقین کے گھروں میں جاکر ان سے اظہار ہمدردی کریں، متاثرین کی بحالی کے لیے کمیٹی قائم کی گئی ہے اور متاثرین کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان