گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں پیر کی صبح 11 بج کر 21 منٹ پر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں زلزلے کے جھٹکے، ہنزہ میں عمارات منہدم، شدت 5.9 ریکارڈ
زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز کریم آباد سے تقریباً 49 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔
زلزلے کے باعث سب سے افسوسناک واقعہ اشکومن میں بدصوات جھیل کے قریب پیش آیا جہاں پہاڑ سے گرنے والے پتھروں کی زد میں آکر ایک موٹر سائیکل سوار موقعے پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا جسے امیت اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
زودخون گاؤں میں بھائی بہن زخمی
دریں اثنا وادی چپورسن (ہنزہ) میں بھی زلزلے نے شدید تباہی مچائی ہے جہاں املاک اور بنیادی ڈھانچے کو سخت نقصان پہنچا ہے۔
زودخون گاؤں میں بھائی بہن زخمی ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق بچوں کے سروں پر چوٹیں آئی ہیں جس کے باعث انہیں سی ٹی اسکین کے لیے ریفر کیا گیا ہے جبکہ 40 سے زائد مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔
مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری
متاثرین منفی 20 ڈگری میں کھلے آسمان تلے بے بسی کے عالم میں ہیں اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے انہیں علی آباد یا گلگت منتقل کرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا ہے۔
مقامی آبادی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زخمی بچوں کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر ہیلی کاپٹر سروس فراہم کی جائے۔
چپورسن کا زمینی رابطہ کٹ گیا
زلزلے کے نتیجے میں شاہراہِ قراقرم کے مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس سے آمد و رفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ وادی چپورسن کا زمینی رابطہ بھی مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔
محکمہ ورکس ہنزہ کے مطابق سوست اور پسو سے بھاری مشینری چپورسن روڈ کو کھولنے کے لیے روانہ کر دی گئی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث گرد و غبار کے بادل چھائے رہے جس سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔
مزید پڑھیں: شدید سردی کے باعث گلگت بلتستان کے عام انتخابات ملتوی
محکمہ صحت ہنزہ نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سوست سے پیرامیڈیکل اسٹاف کو متحرک کر دیا ہے۔
عوام کو احتیاط کی ہدایت
ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہائی الرٹ ہیں اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
انتظامیہ نے عوام کو پہاڑی راستوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے والے مقامات پر سفر سے گریز کریں۔ ندی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں۔
یہ بھی پڑھیے: چین کی جانب سے گلگت بلتستان کے طلبا کے لیے تعلیمی معاونت میں اضافے کا فیصلہ
عوام کو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ریسکیو اداروں سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی اور بند راستوں کو جلد از جلد کھولنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں آئندہ حکومت کون سی جماعت بنائے گی؟
زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے علاوہ چین، تاجکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔













