پارکنسنز ایک طویل المدت بیماری ہے جو دماغ کو متاثر کرتی ہے اور آہستہ آہستہ جسمانی حرکت میں مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس بیماری کی ابتدائی علامات اکثر اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ لوگ انہیں معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ بروقت پہچان سے علاج اور روزمرہ زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر فرد میں اس بیماری کی ابتدائی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، مگر چند عام نشانیاں ایسی ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شوگر کے مریض خنزیر کے اجزا والی انسولین سے اجتناب کریں، اسلامی نظریاتی کونسل
پارکنسنز کی ایک ابتدائی اور عام علامت ہاتھوں یا انگلیوں میں ہلکا سا کپکپانا ہے، جو عموماً اس وقت ہوتا ہے جب ہاتھ آرام کی حالت میں ہو۔ بعض اوقات یہ ایسے لگتا ہے جیسے انگلیوں کے درمیان کوئی چھوٹی چیز گھمائی جا رہی ہو۔ یہی علامت اکثر لوگوں کو ڈاکٹر کے پاس جانے پر مجبور کرتی ہے۔

ایک اور اہم علامت جسمانی حرکات کا سست ہو جانا ہے۔ روزمرہ کے کام جیسے کپڑے کے بٹن لگانا، چلنا یا دانت صاف کرنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ وقت لینے لگتا ہے یا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ چہرے کے تاثرات میں کمی آنا بھی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے، بعض افراد کم پلکیں جھپکتے ہیں یا چہرے پر جذبات کم ظاہر ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بچپن میں چینی کا محدود استعمال دل کی بیماریوں کے خطرات کم کرتا ہے، تحقیق
پٹھوں میں اکڑاؤ بھی پارکنسنز کی ایک عام ابتدائی نشانی ہے۔ بازو یا ٹانگیں سخت محسوس ہو سکتی ہیں، جس سے چلنے پھرنے میں دشواری اور بعض اوقات درد بھی ہوتا ہے۔ کئی بار یہ اکڑاؤ خود مریض کو محسوس نہیں ہوتا، بلکہ دوسرے لوگ حرکت دینے پر اسے نوٹ کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ جسم کا جھکاؤ بدل جانا، توازن کا کمزور ہونا اور بار بار لڑکھڑانا بھی ابتدائی علامات میں شامل ہیں۔ کچھ افراد غیر محسوس طور پر خودکار حرکات کم کر دیتے ہیں، جیسے چلتے وقت بازوؤں کا کم ہلنا یا مسکرانے میں کمی آنا۔
Parkinson hastası adam ilk def medikal kenedir deniyor ve sonuç inanılmaz oluyor pic.twitter.com/8y4sb27zxp
— Politic Türk (@politicturk) January 19, 2026
پارکنسنز کی بعض علامات کا تعلق حرکت سے نہیں ہوتا، جیسے بولنے کے انداز میں تبدیلی، آواز کا آہستہ ہو جانا، لکھائی کا چھوٹا ہو جانا یا نیند میں خلل۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ علامات اکٹھی نظر آنے لگیں تو انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بروقت نیورولوجسٹ سے رجوع کرنے سے بیماری کی جلد تشخیص ممکن ہو سکتی ہے، جس سے علاج اور دیکھ بھال میں مدد ملتی ہے۔













