مصنوعی ذہانت اے آئی کی تیزی سے ترقی نے عالمی ٹیکنالوجی اور مختلف صنعتی شعبوں کو بدل کر رکھ دیا ہے مگر اس کے باوجود مستقبل کی مالی صورتحال کا درست اندازہ لگانا تقریباً ناممکن ہے۔
کچھ اسے صنعتی انقلاب اور خوشحالی کے طور پر دیکھتے ہیں تو کچھ اسے روایتی شعبوں کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں۔ تاہم نیویارک ٹائمز کے ایک کالم نگار نے ایک خاص دعویٰ کیا ہے کہ اوپن اے آئی اپنی اے آئی منصوبہ بندی کے نتیجے میں 18 ماہ کے اندر نقدی کی کمی کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے شادی کے وعدے کیوں لکھوائے؟ عدالت نے شادی غیر قانونی قرار دے دی
گذشتہ سال کی ایک بیرونی رپورٹ کے مطابق، اوپن اے آئی 2025 میں تقریباً 8 ارب ڈالر خرچ کرے گی، جو 2028 تک بڑھ کر 40 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔ کمپنی خود 2030 تک منافع بخش ہونے کی توقع رکھتی ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے ماہرِ معاشیات سیبسٹین مالابی کے مطابق، چاہے اوپن اے آئی اپنے زیادہ امیدافروز وعدوں میں نظرِ ثانی کرے اور حصص کے ذریعے سرمایہ کاری حاصل کرے، تب بھی مالی خلا بہت بڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران
مالابی کے مطابق نئی اے آئی کمپنیاں روایتی کمپنیوں جیسے مائیکروسافٹ یا میٹا کے مقابلے میں زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ پرانی کمپنیوں کے پاس پہلے سے منافع بخش کاروبار موجود ہیں اور وہ صبر کے ساتھ وقت گزرنے کا انتظار کر سکتی ہیں۔
مالابی نے یہ بھی واضح کیا کہ زیادہ تر صارفین مفت سروسز استعمال کر رہے ہیں اور کسی بھی اشتہار یا استعمال کی حد لگنے پر آسانی سے متبادل سروس پر منتقل ہو سکتے ہیں۔ تاہم، جیسے جیسے اے آئی روزمرہ زندگی میں گہرائی سے رچ بس جائے گی صارفین کا پلیٹ فارم تبدیل کرنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ بوٹس صارفین کی ترجیحات، خواہشات اور جذباتی پروفائل تک تفصیل سے جان جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
مالی ماہرین کے مطابق اے آئی کا یہ مالی ’اوروبوروس‘ (اپنی ہی دم کھانے والا سانپ) بظاہر خود کو نگلنے کے لیے تیار ہے مگر اس میں سب سے زیادہ خطرہ نئے اور چھوٹے کھلاڑیوں کے لیے ہے۔














