پاکستان میں مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے پیٹرول پمپ تلاش کرنا اب آسان ہو گیا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ایک موبائل ایپلیکیشن ’راہگزر‘ متعارف کرائی ہے، جو ملک بھر کے رجسٹرڈ اور مجاز پیٹرول پمپس کی تفصیلات فراہم کرے گی۔
ایپ کا مقصد اور جدید ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ ایپ مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو قانونی طور پر منظور شدہ پیٹرول پمپس کی تصدیق شدہ معلومات فراہم کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے ایندھن کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے ایک جدید ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی متعارف کرایا ہے، جو پمپ اسٹیشنز اور ایندھن کی سپلائی چین کو ڈیجیٹل نیٹ ورک سے جوڑتا ہے۔
ایپ اور مانیٹرنگ سسٹم کی کامیاب عملدرآمد کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے ساتھ اشتراک کیا گیا ہے۔ سسٹم کے تحت فیول ٹینکرز، ٹرمینلز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس ایک مربوط ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے مربوط ہوں گے۔
پیٹرول پمپ پر جدید ٹیکنالوجی
پیٹرول پمپس پر آٹومیٹک ٹینک گیجز اور ڈیجیٹل نوزلز لگائے جائیں گے تاکہ ایندھن کی مقدار اور معیار کی درست پیمائش اور مانیٹرنگ ممکن ہو سکے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے اعلان کیا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (DGPC) ایک نیا آن لائن پورٹل متعارف کرائے گا تاکہ تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے بلاکس کی بولی کے عمل میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
اس کے علاوہ ایندھن کی غیر قانونی فروخت اور نقل و حمل کے خلاف سخت اقدامات کے لیے پیٹرولیم ایکٹ، 1934 میں ترامیم کی گئی ہیں، جس میں بھاری جرمانے اور ضبطی کے احکامات شامل ہیں۔
متعدد حفاظتی اقدامات
پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ایکسپلوسوز ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے، جو دھماکہ خیز مواد کی سپلائی چین کو حقیقی وقت میں مانیٹر کرنے میں مدد دے گا، اور اس منصوبے کے 2 مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔













