بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ محکمہ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹ (گریڈ 14) کی 111 آسامیوں پر مکمل طور پر پیپر لیس، ڈیجیٹل اور آن لائن نظام کے تحت شفاف بھرتیوں کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا۔
آن لائن ٹیسٹ، انٹرویوز، نتائج کا اعلان اور کامیاب امیدواروں میں تقرر ناموں کی تقسیم ایک ہی دن میں عمل میں لائی گئی، جسے صوبے میں میرٹ اور شفافیت کی جانب ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ آن لائن ٹیسٹ 18 جنوری کو بیوٹمز (BUITEMS) کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں صوبے بھر سے اہل امیدواروں نے شرکت کی۔ ٹیسٹ مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت ہوا، جس میں کسی قسم کی سفارش، رشوت یا نقل کے کلچر کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے سرکاری نوکریاں آن لائن میرٹ پر تقسیم ہوں گی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا اعلان
کامیاب امیدواروں نے بھرتی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس نظام پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ ایک کامیاب امیدوار ضل حما نے کہا کہ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بغیر کسی سفارش کے انہیں صرف میرٹ پر تقرری ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کے دوران کسی قسم کی چیٹنگ یا غیر شفاف عمل نظر نہیں آیا اور پہلی بار انہیں یہ احساس ہوا کہ بلوچستان میں بھی خالصتاً میرٹ پر نوکری مل سکتی ہے۔
ایک اور کامیاب امیدوار ساجد خان، جن کا تعلق ضلع لورالائی سے ہے، نے بتایا کہ سب اکاؤنٹنٹ کے لیے لیا گیا آن لائن ٹیسٹ مکمل طور پر شفاف تھا اور تمام امیدوار اپنی محنت کی بنیاد پر کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے وعدے کے مطابق ایک ہی گھنٹے کے اندر تقرر نامے دیے گئے، جو ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کامیاب امیدواروں سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ بھی کیا اور ٹیسٹنگ کے عمل، شفافیت اور میرٹ سے متعلق براہِ راست رائے حاصل کی۔ امیدواروں نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ انہیں بغیر کسی سفارش اور رشوت کے نوکری ملی، جس پر وزیراعلیٰ نے اطمینان کا اظہار کیا۔
تقرر ناموں کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انہوں نے صوبائی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں قوم سے وعدہ کیا تھا کہ بلوچستان میں سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جائے گا، اور آج کا دن اسی وعدے کی عملی تعبیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب صوبے میں نوکریاں سفارش یا رشوت پر نہیں بلکہ صرف اور صرف میرٹ پر دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیے آسان اقساط پر الیکٹرک اسکوٹیز کی فراہمی، بلوچستان حکومت اور نیشنل بینک کے درمیان معاہدہ
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب بلوچستان کے عوام کا میرٹ پر یقین تقریباً ختم ہو چکا تھا، مگر آج عملی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ اگر نیت صاف اور نظام شفاف ہو تو حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک مزدور کا بیٹا، ایک استاد کا بیٹا اور ایک وزیر کا بیٹا ایک ہی امتحانی نظام میں برابر کھڑے ہیں اور کامیابی کا واحد معیار میرٹ ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ آئندہ دنوں میں ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر بھی ڈیجیٹل بھرتیوں کا نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ ہر مرحلہ شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی اصلاحات اور مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جائے گی تاکہ زیر التواء ہزاروں آسامیوں پر بروقت اور میرٹ پر بھرتیاں ممکن بنائی جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، محکمہ خزانہ، بیوٹمز اور تمام متعلقہ ٹیموں کو اس تاریخی اور شفاف بھرتی کے عمل کو کامیاب بنانے پر سراہا۔ تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے کامیاب امیدواروں میں تقرر نامے تقسیم کیے۔













