پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک نئی اور خطرناک روایت فروغ پا رہی ہے جس کے تحت کتابوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان پر پلاسٹک کور چڑھایا جا رہا ہے، جو ماحول کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پلاسٹک کو مکمل طور پر تلف ہونے میں ایک ہزار سال تک لگ سکتے ہیں، اس لیے اس کا بے دریغ استعمال ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
پلاسٹک کینسر کا سبب بن رہا ہے
شیری رحمان نے کہا کہ پلاسٹک مختلف بیماریوں خصوصاً کینسر کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، اس لیے کتاب فروشوں کو ایک واضح ٹائم فریم دیا جانا چاہیے تاکہ وہ پلاسٹک کور کے استعمال کا مکمل خاتمہ کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ کتاب فروشوں اور پبلشرز کو چاہیے کہ وہ کتابوں کو پلاسٹک میں لپیٹنے کا عمل فوری طور پر بند کریں اور ماحول دوست متبادل اپنائیں۔
سینیٹر شیری رحمان کے مطابق دنیا بھر میں اب تک 7 ارب ٹن پلاسٹک کچرا پیدا ہو چکا ہے، جس میں سے صرف 9 فیصد ری سائیکل کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے جہاں پلاسٹک کچرے کا صرف ایک فیصد ری سائیکل کیا جاتا ہے، جو خطرناک حد تک کم ہے۔
’اگر سینیٹ چھوڑ سکتی ہے تو سب چھوڑ سکتے ہیں‘
شیری رحمان نے کہا کہ جب سینیٹ پلاسٹک کے استعمال سے اجتناب کر سکتی ہے تو کتابوں کی دکانیں اور پبلشرز بھی اس روایت کو ختم کر سکتے ہیں۔
بل متفقہ طور پر منظور
اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے پلاسٹک کور کی روک تھام سے متعلق پیش کیا گیا بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
بل کا مقصد ماحول کے تحفظ اور پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔














