شیخ زاید اسلامک سینٹر میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے بقیہ درختوں کی کٹائی روکنے اور معاملے کی ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا سخت ردعمل
وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی سنگین جرم ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔
ترجمان کے مطابق شیخ زاید اسلامک سینٹر جو کہ یونیورسٹی میں ایک خود مختار ادارہ ہے کی انتظامیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے علم لائے بغیر اتوار کی شب درختوں کی کٹائی شروع کی۔
سیکیورٹی آفس کی جانب سے رپورٹ ہونے پر گارڈز نے موقع پر پہنچ کر درختوں کی کٹائی رکوائی اور لکڑی سے بھری ٹریکٹر ٹرالی کو بھی روک دیا۔
شیخ زاید اسلامک سینٹر کی انتظامیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ باڈیز سے پوچھے بغیر نجی کنٹریکٹر کی خدمات لے کر کٹائی شروع کرائی۔
مزید پڑھیے: درختوں کی کٹائی نہیں، منظم شجرکاری ہو رہی ہے، طلال چوہدری کا قومی اسمبلی میں بیان
ترجمان نے کہا کہ کٹنے والے درختوں میں سوکھے درخت بھی شامل تھے تاہم انہیں کاٹنے کے لیے بھی قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کی گئی۔
وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
مذید پڑھیں: لاہور میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر پابندی عائد کردی گئی
انہوں نے کہا کہ اس نقصان کی فوری تلافی تو ممکن نہیں تاہم فوری طور پر اسی جگہ سینکڑوں نئے درخت لگائے جائیں گے۔











