محمود خان اچکزئی نئے اپوزیشن لیڈر، نیا میثاق جمہوریت ہو گا؟

بدھ 21 جنوری 2026
author image

وسی بابا

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن گئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اکثریت ہوتے ہوئے بھی اپنا پارٹی امیدوار لانے کی بجائے اچکزئی کو نامزد کیا۔ اس نامزدگی پر پنڈی کا اعتراض بنتا ہے۔ وہ یہ کہ محمود خان اچکزئی اب پرو طالبان ہوئے پھر رہے ہیں۔ ان کے نئے مؤقف کی وجہ ان کے علاقے کے تناظر میں سمجھنی ہو گی۔ اس مؤقف کی ایک قیمت وہ اپنی پارٹی تقسیم کی صورت ادا بھی کر چکے ہیں۔

آصف زرداری، نوازشریف، مولانا فضل الرحمان سب ہی محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن لیڈر بننے پر خوش ہونگے۔ اچکزئی پارلیمانی سیاست کرتے ہیں اور ان کا مزاج جمہوری ہے۔ اس کا اندازہ اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر پہلی تقریر سے لگایا جا سکتا ہے۔

اچکزئی کا کہنا تھا کہ حکومت تمام اچھے کاموں کے لیے ہمارے (اپوزیشن) کے ووٹوں کو بھی اپنا ووٹ تصور کرے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ایسی باتیں ہماری طرف سے نہ ہوں جو ہم گھروں میں ماؤں بہنوں کے سامنے نہیں کر سکتے۔

 ان 2 باتوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کو محمود خان پارلیمانی انداز کی طرف کھینچ کر لا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے وقتی طور پر  قومی اسمبلی میں احتجاج اور شور سے دوری اختیار کر لی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے مستقل کام غلیل بنانے اور شیشے توڑنے میں ذرا وقفہ لے کر تازہ دم ہو رہی ہو۔ کپتان کا اپنا مزاج بھی احتجاج اور اختلاف کی شدت کو بوائلنگ پوائنٹ پر لے جا کر ابالتے رکھنے کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کریٹیکل منرلز، دنیا کی سب سے بڑی مائننگ کمپنی کونسی، ریکوڈک فیصلہ کن

 میچ پی ٹی آئی کی طبعیت اور اچکزئی کے پارلیمانی انداز کے درمیان بھی پڑ سکتا ہے۔ یہ پارلیمانی انداز برقرار رہا تو حکومت کو پارلیمنٹ میں اتنی مشکل پیش آ سکتی ہے کہ پی ٹی آئی کا سڑکوں پر احتجاج یاد کر کے حکومت باقاعدہ ٹھنڈی آہیں بھرتی بھی دکھائی دے سکتی ہے۔ امید یہ رکھنی چاہیے کہ سیاست روڈ سے واپس پارلیمنٹ آ جائے، حوالدار بشیر کو بھی کچھ دن سیاست کی اون میں سلائی دے کر سویٹر بننے سے نجات ملے۔

محمود خان اچکزئی کا ماضی ان کے مستقبل کا پتا دیتا ہے۔ سنہ 1988 میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو پہلی بار وزیر اعظم بنیں تو محمود خان اچکزئی کی پارٹی نے ان کی حمایت کی۔ سنہ 1990 میں نوازشریف وزیراعظم بنے، اچکزئی پی پی کی حمایت میں اپوزیشن کے ساتھ رہے۔ جب نوازشریف اور صدر غلام اسحق خان کی لڑائی ہوئی تو اچکزئی اپنے قریبی دوست افتخار گیلانی کے ساتھ بے نظیر اور نوازشریف کو غلام اسحق کے خلاف اتحاد کے لیے مناتے رہے۔ جب بے نظیر بھٹو نے غلام اسحق کا ساتھ دیا تو اچکزئی نوازشریف کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔ افتخار گیلانی بھی پی پی چھوڑ کر مسلم لیگ نون میں شامل ہوئے۔

مزید پڑھیے: امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

اچکزئی طویل عرصہ نوازشریف کے اتحادی رہے۔ یہ اتحاد اب جا کر ٹوٹا ہے ۔ اچکزئی اپنی عادت مطابق اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عمران خان کے حق میں کھڑے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ محمود خان اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرتے۔ افغان طالبان کے حوالے سے ان کا مؤقف تبدیل ہوا ہے۔ طالبان کی واپسی سے پہلے قندھار میں طویل عرصہ اچکزئی اہم عہدوں پر رہے ہیں۔ اب نورزئی ملا ہبت اللہ کی قیادت میں طالبان افغانستان کے اقتدار میں واپس آئے ہیں۔ نورزئی اچکزئی پرانی قبائلی مخاصمت میں محمود خان اچکزئی کا اپنا مؤقف تبدیل کرنا مناسب دکھائی دیتا ہے ۔ یہ بات نہیں پسند آئی تو یوں کہہ لیں ایسا کرنے کی وجہ سمجھ آتی ہے۔

افغانستان مستقل طور پر پنڈی کا ڈومین رہا ہے۔ پی ٹی آئی کا فاٹا میں آپریشن، افغانستان، طالبان جیسے ایشو پر مؤقف پنڈی سے الٹ ہے۔ اس الٹ مؤقف کے ساتھ پی ٹی آئی اکثر ریاست کی مخالفت میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ بطور اپوزیشن لیڈر محمود خان ان سارے اختلافی امور کو پارلیمنٹ میں واپس لا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو مدہم اور دھیما کر سکتے ہیں۔ سول ملٹری ریلیشن مین ایک ری سیٹ کا امکان دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: لاتعلق اور اکتائی ہوئی جنریشن زی کے ونڈر بوائے ہی کرامتیں دکھا سکتے 

اسی مر نہ جائیے ایسا ہو جائے تو۔ ایک سینیئر و سیزنڈ سیاستدان اپنی اکلوتی سیٹ کے ساتھ جب پارلیمانی پوزیشن پر نمایاں ہوا ہے تو دل نے کیا کیا امید باندھی ہے۔ بلوچستان جہاں باپ پارٹی کی جھاڑو ایسی پھری کہ عوامی حمایت رکھنے والے سیاستدان غائب ہو گئے، ہر پارٹی میں ابا جی ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں اب محمود خان ہی بچے ہیں جو معقول ہونے کے ساتھ مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ساری امید اسی معقولیت سے ہے، اس پر بھی اگر پی ٹی آئی کا احتجاجی شرارتی رنگ چڑھ گیا تو ہماری قسمت۔ نئے میثاق جمہوریت کا کیا ہوا، ہوا، نہ ہوا تو نہ ہوا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مری میں برفباری، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متحرک

صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا

مراد علی شاہ نے خط لکھ کر کراچی میں گرین لائن منصوبہ رکوایا، مصطفیٰ کمال

ووٹر کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں، احسن اقبال

صدر مملکت آصف علی زرداری سے اردن کے لیے نامزد سفیر میجر جنرل (ر) خرم سرفراز خان کی ملاقات

ویڈیو

’میں روز گل پلازہ کے اندر موجود اپنے پوتے کے لیے یہاں آکر بیٹھ جاتی ہوں‘، بزرگ خاتون غم سے نڈھال

شریف خاندان کی شاہی شادی، ڈمی رانا ثنا اللہ کی خصوصی گفتگو

میڈیا چینلز میں عشق عمران میں کون مبتلا؟ گل پلازہ میں چوریاں، پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ بن گیا

کالم / تجزیہ

گل پلازہ کی آگ سے بننے والے دائرے

ہمارے شہر مر رہے ہیں

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘