بلوچستان گرینڈ الائنس کی جانب سے سرکاری ملازمین کے مطالبات کے حق میں بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کے اعلان کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں صورتحال شدید کشیدہ ہو گئی ہے۔ گرینڈ الائنس نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت کے طرز پر ڈی آر اے میں 30 فیصد اضافے، سرکاری محکموں کی نجکاری کے فیصلے کی فوری واپسی اور دیگر دیرینہ مطالبات کے حق میں ہر صورت بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا جائے گا، اور کوئی طاقت انہیں اسمبلی پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔
اعلان کے بعد صوبے بھر سے سرکاری ملازمین نے قافلوں کی صورت میں کوئٹہ پہنچنے کا فیصلہ کیا، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے شہر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے۔ کوئٹہ پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ ریڈ زون کے اطراف کنٹینرز رکھ کر بلوچستان اسمبلی، وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کی جانب جانے والے راستے بند کر دیے گئے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان: ملازمین کی گرفتاری کے خلاف بلوچستان گرینڈ الائنس کا احتجاج جاری
انتظامیہ نے احتجاج کے خدشے کے پیش نظر کوئٹہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی اور واضح کیا کہ کسی قسم کے احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ان اقدامات کے تحت شہر میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماؤں نے ان اقدامات کو جمہوری حقوق پر قدغن قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ گرینڈ الائنس کے رہنما شفا مینگل نے کہا کہ سرکاری ملازمین اپنے جائز اور آئینی مطالبات کے لیے پُرامن احتجاج کرنا چاہتے تھے، مگر حکومت طاقت کے ذریعے ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آر اے میں اضافہ وفاق میں پہلے ہی کیا جا چکا ہے، لہٰذا بلوچستان کے ملازمین کو بھی یہ حق دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سرکاری اداروں کی نجکاری کو ملازمین کے معاشی مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے آغاز سے قبل ہی پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب سمیت مختلف مقامات سے بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماؤں اور متعدد سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ گرفتاریاں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کی گئیں اور گرفتار افراد کو شہر کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ اب تک سینکڑوں سرکاری ملازمین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
گرفتاریوں کے بعد بلوچستان گرینڈ الائنس نے جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ الائنس کے ترجمان نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات کے بجائے گرفتاریوں کا راستہ اختیار کرے گی تو ملازمین بھی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین ڈی آر اے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں پُرامن دھرنا دینا چاہتے تھے، مگر ریاستی طاقت کے استعمال نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان گرینڈ الائنس کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری، عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ
شہر میں سخت سیکیورٹی انتظامات اور سڑکوں کی بندش کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ ٹریفک جام معمول بن گیا جبکہ سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز میں حاضری نمایاں طور پر کم رہی۔ موبائل انٹرنیٹ کی بندش پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے روزمرہ امور، آن لائن کاروبار اور باہمی رابطوں میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
دوسری جانب پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں کنٹینرز لگانے اور گرفتاریوں کا مقصد کسی کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ امن و امان کو برقرار رکھنا اور حساس تنصیبات کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث احتجاج کی اجازت دینا ممکن نہیں۔













