پشاور کے علاقے یکاتوت میں واقع پتنگ مارکیٹ ان دنوں رش اور گہماگہمی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ پنجاب میں بسنت کی اجازت ملنے کے بعد جہاں کام میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، وہیں خریداروں کی بڑی تعداد بھی اس مارکیٹ کا رخ کر رہی ہے۔
یکاتوت کی پتنگ مارکیٹ نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں پتنگ سپلائی کرتی ہے تاہم پنجاب میں بسنت کی اجازت کے بعد رش میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مارکیٹ کے ہول سیل ڈیلر اور مالک سراج الدین کے مطابق اس سال قیمتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود خریداری میں کمی نہیں آئی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی پتنگوں کی مانگ پوری دنیا میں ہے اور کینیڈا، امریکا سمیت بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک مختلف علاقوں میں سپلائی کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب اور دیگر اضلاع سے خریداروں کی تعداد زیادہ ہے۔
’پشاور سے بسنت رنگین ہوتی ہے‘۔
حسنین کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ بسنت پر پتنگ بازی کے شوقین ہیں۔ اسی شوق کے باعث وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پتنگوں کی خریداری کے لیے پشاور آئے ہیں۔
حسنین کا کہنا ہے ’ہم نے دوستوں اور گھر والوں کے لیے ایک ساتھ خریداری کی ہے اور اس بار بسنت بھرپور طریقے سے منائیں گے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ لاہور میں بھی پتنگیں دستیاب ہیں، لیکن پشاور میں ورائٹی زیادہ اور پتنگیں زیادہ رنگین ہوتی ہیں، جبکہ لاہور میں نسبتاً سادہ کام ملتا ہے۔
’ہماری بسنت کو پشاور کی پتنگیں ہی رنگین بناتی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کئی سال بعد حکومتی سطح پر بسنت کی اجازت ملی ہے، جس کی وجہ سے وقت کم اور تیاری زیادہ ہے۔
’ہمارا ارادہ ہے کہ 10، 20 برسوں کی کسر اس بار پوری کریں۔‘
’آرڈر زیادہ ہیں، وقت کم‘
لاہور سے تعلق رکھنے والے رضا احمد، جو پتنگوں کا کاروبار کرتے ہیں، آرڈر پر مال تیار کروانے کے لیے خود پشاور پہنچے ہیں۔ ان کے مطابق بسنت کی اجازت تاخیر سے ملنے کے باعث وہ اپنے تمام آرڈرز پورے نہیں کر سکے، اسی لیے پشاور سے اضافی مال منگوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا
’ہمارے پاس کافی آرڈرز ہیں، لیکن وقت کم ہونے کی وجہ سے پورے نہیں ہو پا رہے، اسی لیے پشاور سے زیادہ مال اٹھا رہے ہیں۔‘
رضا احمد کے مطابق بسنت کے موقع پر لوگ رنگین اور فینسی پتنگوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
کیا پشاور میں قیمتیں کم ہیں؟
لاہور سے پشاور آنے کی ایک وجہ قیمتیں بھی بتائی جاتی ہیں، کیونکہ عام خریدار اور دکاندار یہاں سے ایک ساتھ زیادہ مال خریدتے ہیں۔ تاہم لاہور سے آنے والے خریداروں کے مطابق اس سال قیمتوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔
رضا احمد کا کہنا تھا کہ پشاور اور لاہور کی قیمتوں میں معمولی فرق ہے، جبکہ کرایہ اور مال لے جانے کے اخراجات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔
’مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آخر میں قیمتیں تقریباً برابر ہی ہو جاتی ہیں۔‘
حسنین بھی اسی رائے کے حامل ہیں۔ ان کے مطابق قیمتوں میں زیادہ فرق نہیں، البتہ کوالٹی اور ورائٹی میں واضح فرق ہے۔
’پشاور میں کوالٹی بہتر ہے اور رنگ برنگی پتنگوں کی بڑی ورائٹی دستیاب ہے۔‘
پشاور کے ہول سیل ڈیلر سراج الدین بھی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق پتنگ سازی کے لیے خام مال باہر سے آتا ہے اور را میٹریل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پشاور میں پتنگوں کی قیمتیں 100 روپے سے شروع ہو کر 500 روپے تک ہیں۔
مزید تفصیل اس ویڈیو رپورٹ میں













