قتل کے مجرم دین محمد کی بریت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران مجرم دین محمد کے وکیل رانا کاشف نے مؤقف اختیار کیا کہ مبینہ قتل کا واقعہ اپریل 2012 میں سندھ میں پیش آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: بیوی کے قتل میں نامزد ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
تاہم واقعے کی ایف آئی آر 2 دن اور 7 گھنٹے کی تاخیر سے درج کی گئی، جو استغاثہ کے مؤقف کو مشکوک بناتی ہے۔
وکیل نے کہا کہ سندھ میں لیٹ ایف آئی آر کا فائدہ متعدد مقدمات میں مل چکا ہے۔
اس موقع پر جسٹس صلاح الدین پنوار نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں تاخیر سے ایف آئی آر درج ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں اور اس کا فائدہ مل بھی چکا ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: بیوی کے قتل میں نامزد ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کسی گواہ نے اپنے بیان میں یہ کہا ہے کہ واقعے کے بعد زخمی کو اسپتال منتقل کرتے وقت پولیس سے رابطہ ہوا ہو۔
جس پر وکیل صفائی نے بتایا کہ پولیس سے رابطہ تو کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو مقتولین یا متاثرہ فریق کی جانب سے رابطہ ہونے پر فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنی چاہیے، نہ کہ محض رپورٹ لکھ کر معاملہ لٹکایا جائے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے پینشن سے متعلق تاریخی فیصلہ جاری کر دیا
انہوں نے کہا کہ سندھ میں یہ جو رواج ہے وہ پورے ملک سے مختلف ہے اور رپورٹ درج کرنے سے پولیس اہلکار پروسیکیوشن کی شہادت کو خراب کرتا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے مزید کہا کہ ایسے طرزِ عمل کے مرتکب پولیس اہلکار کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201 کے تحت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
سماعت کے دوران مجرم کے وکیل نے نشاندہی کی کہ ایف آئی آر میں مقتول پر 2 وار لگنے کا ذکر ہے۔
مزید پڑھیں: ایف سی اہلکار کی بحالی کا کیس، سپریم کورٹ نے فرنٹیئر کور کی درخواست خارج کردی
جبکہ میڈیکل رپورٹ میں 3 وار سامنے آئے ہیں، جو استغاثہ کے کیس میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے مجرم دین محمد کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔














