ایک پاکستانی شہری کو ڈھاکہ میں فیملی تنازع کے دوران خودکشی کی کوشش سے بچا لیا گیا، بعد ازاں وہ ہیلپ لائن 999 پر کال کر کے مدد طلب کر رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ بروقت مداخلت نے ایک ممکنہ المیہ کو روکا۔
بنگلہ دیش میں کام کرنے والے ایک پاکستانی شہری کو بدھ کی صبح ڈھاکہ کے سیکٹر 18، اُتارا سے ہنگامی کال کے ذریعے خودکشی کی کوشش سے بچایا گیا۔ کال کے وقت شہری نے بتایا کہ وہ ایکسپورٹ کمپنی میں ٹیکسٹائل انجینیئر کے طور پر کام کرتا ہے اور 4 سال قبل ایک بنگلہ دیشی خاتون سے شادی کی ہے۔ ان کے 2 بچے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈھاکہ میں اپوزیشن طلبا تنظیم کا الیکشن کمیشن کے سامنے پرامن دھرنا
شہری نے بتایا کہ ماہانہ تقریباً 200,000 ٹکا کی تنخواہ کے باوجود زیادہ تر آمدنی اپنی بیوی کو دے دی جاتی ہے، جبکہ بیوی مزید مالی مطالبات کرتی رہی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس پر غیر حقیقی الزامات لگا کر بلیک میل کیا جا رہا ہے۔
کال کے دوران وہ روتا رہا اور بتایا کہ ذہنی طور پر دباؤ میں ہے اور خودکشی کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہیلپ لائن کے آپریٹرز نے اسے پرسکون رہنے، گاڑی روکنے اور قانونی و مشاورت کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

کال کی بنیاد پر شہری کو فوری طور پر توراگ پولیس اسٹیشن کے انچارج سے جوڑا گیا۔ پولیس کی ٹیم فوراً اس کے رہائشی مقام پر پہنچی، اس کے ساتھیوں اور دوستوں کو اطلاع دی اور اس کی ساس سے رابطہ کیا، جو بعد میں موقع پر پہنچیں۔
خاندان اور جاننے والوں کی موجودگی میں بات چیت کے دوران شہری کی بیوی نے الزام لگایا کہ وہ اکثر رات دیر سے گھر آتا ہے۔ پولیس نے دونوں کے درمیان ثالثی کرائی جس کے نتیجے میں عارضی طور پر صلح ہوگئی۔ اس وقت کسی نے رسمی شکایت درج کرانے پر اتفاق نہیں کیا، البتہ پولیس نے مشورہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر تحریری شکایت کے ذریعے قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کا بنگلہ دیش سے اپنے سفارتی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو واپس بلانے کا فیصلہ
999 ہیلپ لائن پر کال کانسٹیبل بایزید نے وصول کی جبکہ مقامی پولیس کے ساتھ رابطہ سب انسپکٹر صایر احمد نے کوآرڈینیٹ کیا۔ حکام کے مطابق ہنگامی ہیلپ لائن اور پولیس کی بروقت مداخلت نے ایک ممکنہ انسانی المیے کو ٹال دیا۔














