بنگلہ دیش میں اردو سنیما سے وابستہ معروف اداکار اور ڈانس ڈائریکٹر الیاس جاوید طویل بیماری کے بعد بدھ کو 82 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے بنگلہ دیش کی اردو سنیما کے شائقین اور فلمی حلقے غمزدہ ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق الیاس جاوید صبح تقریباً 11:30 بجے داکا کے اُتارا کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئے، جہاں وہ کینسر کے طویل علاج کے بعد زیر علاج تھے۔ ان کی اہلیہ اور معروف اداکارہ ڈولی چودھری نے ان کی وفات کی تصدیق کی۔
অভিনেতা ইলিয়াস জাভেদ মারা গেছেন
ইন্না লিল্লাহি ওয়া ইন্না ইলাহি রাজিউন pic.twitter.com/om65yoKJLe
— Monju Alom (@MonjuAlom1) January 21, 2026
ڈولی چودھری کے مطابق الیاس جاوید کی طبیعت بدھ کی صبح خراب ہوئی۔ وہ گزشتہ چند مہینوں سے گھر پر علاج کروا رہے تھے، جہاں ڈاکٹروں اور نرسوں کی ٹیم ان کا باقاعدگی سے خیال رکھتی تھی۔ حالت بگڑنے پر ایمبولینس بلائی گئی اور انہیں اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بعد میں وفات کا اعلان کیا۔
الیاس جاوید کا تعلق اردو فلمی دنیا سے تھا اور وہ خاص طور پر مشرقی پاکستان کے سنہری دور میں بنگلہ دیش میں اردو فلموں کے مشہور چہرے کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے 1960 کی دہائی میں بطور ڈانس ڈائریکٹر فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی پہلی اسائنمنٹ میں ’ملن‘ (1960) کے لیے کوریوگرافی کی، جسے کائزر پاشا نے ڈائریکٹ کیا۔

بعد میں وہ اداکاری کی طرف آئے اور 1964 میں اردو فلم ’نئی زندگی‘ سے بطور اداکار اپنا آغاز کیا۔ ان کی زندگی کے دوران وہ متعدد کامیاب اور تنقیدی طور پر سراہے جانے والے فلموں میں نظر آئے جن میں ’ملکہ بانو‘، ’ایک دن آگے‘، ’شہزادی‘، ’نشان‘، ’راجکماری چندربان‘، ’کاجول ریکھا‘ اور ’صاحب بی بی‘ شامل ہیں۔
الیاس جاوید نے بنگالی فلموں میں بھی کام کیا اور بنگلہ دیش کی فلمی صنعت میں اہم ثقافتی کردار ادا کیا۔ ان کی وفات اردو سنیما کے لیے ایک دور کے اختتام کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جہاں وہ نسلوں تک فلمی شائقین کے لیے محترم اور یادگار شخصیت رہے۔














