وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں ٹیلی میڈیسن سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔
جھنگ میں کیتھ لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے ڈی ایچ کیو اسپتال میں کارڈیک سرجری شروع کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہاکہ پنجاب کے شہریوں کو ہر قسم کی طبی سہولت ان کے گھر کی دہلیز پر فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں مریم نواز ہیلتھ کلینکس کیسے کام رہے ہیں؟
انہوں نے لاہور میں نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کی تعمیر مارچ سے شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔
مریم نواز نے کہاکہ جھنگ جیسے دور دراز علاقے میں کیتھ لیب کی افتتاح پر خوشی ہے اور اب غریب اور امیر سب کو یکساں علاج کی سہولت ملے گی۔ غربت اور محدود وسائل کے شکار افراد کے لیے ہارٹ اٹیک انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک کے مریض کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے گاڑی کرائے ادا کرنا پڑتے ہیں، جبکہ 60 منٹ کے ’گولڈن آور‘ میں فوری علاج سے زندگی بچائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ جھنگ کی کیتھ لیب میں مریض کے پروسیجر کا مشاہدہ کیا اور معلوم ہوا کہ مریض پہلے لاہور کے بجائے مقامی اسپتال لائے جا رہے ہیں، اور یہاں 48 گھنٹوں میں علاج مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ فیصل آباد میں اسی پروسیجر کے لیے 8 ماہ کی تاریخ ملتی تھی۔
مریم نواز نے انتظامیہ کی معاونت کو بھی سراہا اور کہا کہ کبھی کبھی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ سختی برتنی پڑتی ہے، مگر یہ عوام کی خدمت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 16 کیتھ لیبز کے قیام کا عمل جاری ہے اور ساہیوال، مری اور سرگودھا میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹس قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں دور دراز علاقوں کے لوگ علاج کے لیے آتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ نئے اسپتال ڈیزائن کرتے وقت دیگر صوبوں کے مریضوں کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ لاہور میں 100 بیڈ کا پہلا سرکاری کینسر اسپتال بھی تمام صوبوں کے مریضوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ جھنگ کی کیتھ لیب کو افتتاح سے پہلے فعال کر دیا گیا ہے تاکہ مریضوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
مریم نواز نے بتایا کہ جھنگ میں مختصر عرصے میں 30 انجیوگرافی اور پلاسٹی پروسیجر ہو چکے ہیں اور ہارٹ اٹیک کے مریض انجیوپلاسٹی یا سرجری سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں چار بیوٹیفکیشن پروجیکٹس جلد مکمل کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ جھنگ میں 350 کلومیٹر سڑکیں نئی یا مرمت شدہ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پنجاب بھر میں 7 لاکھ مریضوں کو انسولین اور دیگر ادویات مفت فراہم کی جا چکی ہیں اور ہوم ڈیلیوری سروس مزید بڑھائی جائے گی۔ ڈائیلاسز کارڈ کے ذریعے ہر مریض 10 لاکھ روپے تک کا علاج کروا سکتا ہے۔ کلینک آن ویل اور فیلڈ اسپتالوں کے ذریعے دو کروڑ افراد علاج کروا چکے ہیں، جہاں ایکسرے، ای سی جی، الٹراساؤنڈ اور سرجیکل پروسیجرز بھی کیے جاتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ پنجاب میں 100 ارب روپے کی فری ادویات فراہم کی جا رہی ہیں اور آرگن ٹرانسپلانٹ کے لیے ٹرانسپلانٹ کارڈ بھی دیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اہل پنجاب کے لیے ایک اور خوشخبری، مریم نواز نے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام کا افتتاح کردیا
انہوں نے بتایا کہ کارڈیک سرجری کے لیے انتظار کرنے والے 15 ہزار بچوں میں سے 10 ہزار بچے پہلے ہی صحت یاب ہو چکے ہیں، جن میں دیگر صوبوں اور آزاد کشمیر کے بچے بھی شامل ہیں۔
مریم نواز نے کہاکہ ایئر ایمبولینس کے ذریعے مریضوں کو فوری علاج کے لیے منتقل کیا جا رہا ہے اور فالج کے مریضوں کو ٹی این انجکشن مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔













