پچھلے سال اکتوبر میں پنجاب حکومت نے بنیادی مراکز صحت کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا۔ صوبے بھر میں اس وقت قریباً 2800 کے قریب بنیادی مراکز صحت اور رورل ہیلتھ سینٹرز ہیں۔
حکومت آؤٹ سورس مراکز کو فی مریض کے علاج اور دوا فراہم کرنے کی مد میں رقم ادا کررہی ہے۔ آؤٹ سورس کیے جانے والے مراکز کو وہاں پہلے سے خدمات انجام دینے والا ڈاکٹر لے سکتا ہے، یا کسی اور ڈاکٹر کے حوالے کردیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے حکم پر ایم ایس اور سی ای او ہیلتھ پاکپتن گرفتار، ’سوشل میڈیا نہ ہوتا تو کلین چٹ مل گئی ہوتی‘
حکومت نے پہلے فیز میں 150، دوسرے فیز میں 982 مریم نواز ہیلتھ کلینکس کو آؤٹ سورس کردیا، جب کہ آخری اور تیسرے فیز میں 1480 مریم نواز کلینکس آئندہ ماہ آؤٹ سورس کردیے جائیں گے۔
مریم نواز ہیلتھ کلینک کے ایک ڈاکٹر کے مطابق یہ بہت اچھا پروگرام ہے، حکومت ایک بنیادی مرکز صحت کو 8 لاکھ 94 ہزار روپے ماہانہ دے رہی ہے۔ ایک بنیادی مرکز صحت پر پورے ماہ 1100 مریضوں کو دیکھنا ضروری ہے، جبکہ ایک دن میں کم از کم 40 سے 45 مریض چیک کرنے ضروری ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پورے صوبے میں مریم نواز ہیلتھ کلینکس پر مریضوں کو مفت ادویات دی جاتی ہیں، ہر بنیادی صحت کے مرکز پر ڈیرھ سے 2 لاکھ روپے کی ادویات رکھنا ضروری ہے۔
مریم نواز ہیلتھ کلینک پر ڈاکٹر کے علاوہ کم از کم 5 ممبران پر مشتمل عملہ رکھا گیا ہے، جن میں 2 ایل ایچ ویز، ایک ڈسپنسر، ایک سیکیورٹی گارڈ اور ایک سوپیر شامل ہے۔ پنجاب حکومت نے ان ملازمین کی کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے مقرر کی ہے۔
ادویات کی خریداری کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے کمپنیوں کی لسٹ فراہم کی گئی ہے جو حکومت کے پینلز پر ہیں، اور صرف وہیں سے خریداری کرنے کی اجازت ہے۔ جبکہ ایمرجنسی کی صورت میں بنیادی مراکز پر ایمبولینس 1034 پر کال کر کے منگوائی جاسکتی ہے۔
اس وقت آؤٹ سورس کیے گئے مریم نواز ہیلتھ کلینکس پر او پی ڈپی بہترین انداز میں کام کررہی ہیں، جب سے لوگوں کو پتا چلا ہے کہ ادوایات فری میں دی جاتی ہیں مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس مریم نواز کلینک پر مریضوں کی تعداد زیادہ اور اس کی رپورٹ ٹھیک ہوگی اس کا پیکج بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔ مریم نواز ہیلتھ کلینکس 24 گھنٹے عوام کے لیے کھلے ہیں۔
مریم نواز ہیلتھ کلینکس پر غیر معیاری ادویات دی جاتی ہیں، ڈاکٹر سلمان کا الزام
دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائی ڈی اے) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سلمان کے مطابق حکومت کا بنیادی مراکز صحت کو آؤٹ سورس کرنے کا ایک ہی مقصد تھا کہ ہیلتھ کا بجٹ کم کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ پہلے جو ادوایات بنیادی مراکز صحت پر ملتی تھیں وہ منظور شدہ کمپنیوں سے منگوائی جاتی تھیں، لیکن اب اختیار دیا گیا ہے کہ جو کلنک کا جو بھی ڈاکٹر ہیڈ ہے وہ کسی بھی کمپنی سے ادویات منگوا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ادویات کے معیار کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس کے علاوہ پانچ کے قریب عملے کو تنخواہیں بہت کم دی جارہی ہیں۔ پہلے بنیادی مراکز صحت پر ایل ایچ وی 50 سے 60 ہزار روپے تنخواہ لے رہی تھی جو اب 25 سے 30 ہزار روپے پر کام کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیلتھ کارڈ کو ری ڈیزائن کرکے جلد فنکشنل کر دیا جائے گا، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
ان کا کہنا تھا کہ اب مریضوں کی جعلی انٹریاں ڈالی جائیں گی، مریم نواز کلینس ہیڈ پیسے بچانے کی کوشش کریں گے، کیوں کہ کوئی چیک اینڈ بلینس کا نظام نہیں ہے۔













