مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے روزگار کی دنیا کو بدلنے جا رہی ہے اور حکومتوں کے پاس تیاری کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ایک انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ اگلے 4 سے 5 برسوں میں وائٹ کالر نوکریاں شدید دباؤ کا شکار ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت سے ریسرچرز کی جاب کو سب سے زیادہ خطرہ، حیران کن دعویٰ
بل گیٹس کے مطابق، ‘میرا خیال ہے کہ اگلے 4 سے 5 سال میں وائٹ کالر کی نوکریوں میں حکومتوں کو آگے بڑھ کر مساوات اور انصاف سے متعلق مسائل سے نمٹنا ہوگا۔’
انہوں نے تسلیم کیا کہ مصنوعی ذہانت میں بیماریوں کے علاج، تعلیم اور دیگر شعبوں میں بے پناہ بہتری کی صلاحیت موجود ہے، تاہم اگر اس تبدیلی کو مؤثر انداز میں منظم نہ کیا گیا تو افرادی قوت، بھرتی کے نظام اور معاشی انصاف پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بل گیٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ لوگوں کو دوبارہ تربیت دیتے ہیں؟ کیا آپ ٹیکس کا نظام بدلتے ہیں؟ فی الحال اس کے اثرات محدود ہیں، مگر یہ صورتحال زیادہ تادیر نہیں رہے گی۔’
یہ بھی پڑھیے: کیا سی ایس ایس افسران اب مصنوعی ذہانت کی تربیت حاصل کریں گے؟
یہ خیالات بل گیٹس کے حالیہ سالانہ خط ‘دی ایئر اہیڈ’ میں بھی نمایاں ہیں، جس میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف ماضی کی ٹیکنالوجیکل انقلاب سے زیادہ تیز ہے بلکہ زیادہ گہرائی تک معاشرے کے ہر شعبے میں داخل ہو رہی ہے، اور غیر معمولی رفتار سے تبدیلی لا رہی ہے۔
بل گیٹس نے نشاندہی کی کہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں مصنوعی ذہانت پہلے ہی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ لاجسٹکس اور کال سینٹرز جیسے شعبوں میں کم مہارت والی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو دولت اور مواقع چند ہاتھوں میں سمٹ سکتے ہیں، جس سے عدم مساوات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اوپن اے آئی کا مصنوعی ذہانت کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کا ہدف
انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز کی سنگینی ہم آہنگ پالیسی سازی اور عالمی سطح پر تعاون کی متقاضی ہے۔ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں بل گیٹس نے بھارت اور امریکا کے تعلقات کو بدلتی عالمی صورتحال میں ایک مضبوط سہارا قرار دیا۔
بل گیٹس کے مطابق، ‘مجھے لگتا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان مضبوط تعلقات کی منطق آخرکار غالب آئے گی۔’
انہوں نے بھارت کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ کو دونوں ممالک کے لیے ایک اہم فائدہ قرار دیا۔










