ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ہم تو پہلی والی پارٹی کی طرح نہیں کہ آواز لگائیں ‘نریندر مودی دروازہ کھولو’، صوبائی حکومت ہماری بنے گی نہیں اور بلدیاتی حکومت کو آپ اختیار نہیں دیں گے، ہم کہاں جائیں؟ اس جمہوری دہشت گردی کو بند ہونا چاہیے۔
’کراچی میں نسل کشی ہو رہی ہے‘
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور ریاست نے شہر کو ایسے لوگوں کے حوالے کر دیا ہے جو اسے سنبھالنے میں ناکام ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایم کیو ایم نے بگڑتی صورت حال پر ’کراچی بچاؤ مہم‘ شروع کرنے کا اعلان کردیا
ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب روزانہ سو کے قریب افراد قتل ہوتے تھے، آج آگ لگنے، عمارتوں کے حادثات اور گٹروں میں گرنے سے بچے مر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک کراچی قربانیاں دیتا رہے گا؟
پیپلز پارٹی پر شدید تنقید
وفاقی وزیر نے پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے سندھ میں حکمرانی کے باوجود ہر سانحے کا الزام ایم کیو ایم پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بلدیہ فیکٹری میں آگ کے واقعے کو آج بھی بطور جواز پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ موجودہ ایم کیو ایم اس طرزِ سیاست سے بہت آگے نکل چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی کی لوکل گورنمنٹ اختیارات کے ساتھ ایم کیو ایم کے پاس آئی تو سارا شہر 6 مہینوں میں بدل جائے گا، مصطفیٰ کمال
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سے جب شکایت کی جائے تو جواب میں بھتہ خوری اور ماضی کے واقعات یاد دلائے جاتے ہیں، کیا یہی طرز حکمرانی کا جواز ہے؟ پیپلز پارٹی نے وفاق کو دھمکا کر ہماری جائز آئینی ترمیم کو روکا، اگر ہم حکومت میں شامل نہ ہوں تو کیا آپ ہمیں وسائل نہیں دیں گے؟ اگر ہمارے ایم این اے کوئی فنڈ لے آئیں تو یہاں کا وزیرِ اعلیٰ اسے روک دیتا ہے۔
’وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے‘
مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کراچی کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر پیپلز پارٹی کو ناراض نہ کرنے کے باعث مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر حکومت کو چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کی ضرورت پڑتی ہے اور اس کی قیمت کراچی اور اس کے شہری ادا کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے وفاق کو دھمکا کر ہماری جائز آئینی ترمیم کو روکا، مصطفیٰ کمال کی پیپلز پارٹی پر شدید تنقید۔ pic.twitter.com/MrrUdCVWB4
— WE News (@WENewsPk) January 22, 2026
18ویں ترمیم پر سوالات
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر کراچی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ 18ویں ترمیم کے نام پر جاری ’’ڈرامہ‘‘ بند کیا جائے اور بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔
آئینی شقوں کے تحت وفاقی مداخلت کا مطالبہ
مصطفیٰ کمال نے ریاست اور اس کے اداروں سے اپیل کی کہ آئین کے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت کراچی کو فیڈرل ٹیریٹری قرار دیا جائے اور اسے پاکستان کا معاشی حب بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بعد میں بھی بن سکتے ہیں، مگر آج کے آئین میں رہتے ہوئے کراچی کو وفاق کے تحت لایا جا سکتا ہے۔
’کراچی کا خون بہے گا تو پورا پاکستان رسے گا‘
انہوں نے خبردار کیا کہ کراچی کو نظرانداز کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی اپنی ہی شاخ کاٹ رہا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا خون بہہ رہا ہے اور اس کا اثر پورے پاکستان پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’جمہوری دہشت گردی‘ فوری طور پر بند کی جائے اور شہر کو اس کا حق دیا جائے۔













