نوکری کرنے والی ماؤں کے لیے ریموٹ ورک، کیا اب یہ لازمی بننے جارہا ہے؟

جمعرات 22 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 متحدہ عرب امارات میں  وسیع پیمانے پر تبدیلیاں زیرِ غور ہیں جن کے تحت کام کرنے والی ماؤں اور دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے ریموٹ ورک  کو ترجیح دی جائے گی۔

وفاقی قومی کونسل (FNC) نے کام کرنے والی ماؤں اور دیگر دیکھ بھال کرنے والے افراد کے لیے ریموٹ اور لچکدار کام کے نفاذ پر زور دیا ہے۔ کونسل کے اراکین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خاندانی تحفظ، سماجی استحکام اور کام اور زندگی کے توازن کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل نے ریموٹ ورک پالیسی سخت کردی، ملازمین کے لیے نئی شرائط عائد

تجاویز میں خصوصی طور پر 10 سال سے کم عمر بچوں والی مائیں، بزرگ والدین کی دیکھ بھال کرنے والے افراد، معذور افراد اور دیگر انسانی ہنگامی حالات کے حامل گروپ شامل ہیں۔ کونسل نے واضح کیا کہ لچکدار کام کے انتظامات اختیاری نہیں بلکہ ملازمت کے فریم ورک کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں تاکہ ملازمین اقتصادی طور پر سرگرم رہیں۔

کونسل کی دوسری نائب اسپیکر اور کمیٹی برائے سماجی امور، محنت، آبادی اور انسانی وسائل کی چیئر پرسن مریم ماجد بن ثانیہ  نے کہا کہ ہم بچوں، خاص طور پر خصوصی ضروریات والے بچوں اور 10 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ ماؤں کی موجودگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں اور ان خواتین کی بھی جو اپنے والدین کی دیکھ بھال اپنے گھروں میں کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ورک فرام ہوم متعارف، دفاتر میں کتنے فیصد ملازمین کی اجازت؟

کونسل کے مطابق ریموٹ ورک خواتین کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور خاندانی زندگی کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد دیتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ قومی ترقی میں اپنا حصہ کم کریں۔

مزید برآں، FNC نے سفارش کی ہے کہ سرکاری شعبے میں زچگی کی رخصت کم از کم 98 مکمل ادائیگی والے دنوں تک بڑھائی جائے، تاکہ عالمی بہترین طریقوں کے مطابق کام کرنے والی خواتین کی حمایت کی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا