سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اور شجرکاری کے معاملات پر تفصیلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ماہرین پر مشتمل کمیٹیاں قائم کرنے، شفافیت اور عوامی مشاورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا جنگلاتی رقبہ خطے میں سب سے کم، صرف 5 فیصد ہے، جس کا تحفظ ناگزیر ہے۔
اجلاس میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، سی ڈی اے اور وزارتِ صحت کے حکام نے آگاہ کیا کہ کاغذی شہتوت (Paper Mulberry) کے خاتمے سے پولن الرجی میں کمی کے آثار سامنے آئے ہیں اور ہر کاٹے گئے درخت کے بدلے 3 مقامی و غیر الرجک درخت لگائے گئے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا سخت ردعمل
سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ دارالحکومت کے سبزہ زاروں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔














