کراچی کی آگ اور ہم

جمعہ 23 جنوری 2026
author image

احمد ولید

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے پورے ملک میں ایسی بحث چھیڑ دی ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ نے سیاسی ماحول کو آلودہ کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران شدید جملے بازی ہوئی۔ تمام جماعتوں نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیا۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے واقعے پرسندھ میں حکمران اتحادی جماعت پرسخت تنقید کی اور سانحہ گل پلازہ کو 18 ویں ترمیم سے جوڑتے ہوئے ترمیم کو ڈھکوسلا قرار دے دیا۔ آگ کو خطرے کی گھنٹی قرار دے دیا۔ کہتے ہیں سسٹم کی بقا کے لیے مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔

اگرچہ ان کی جماعت کے اپنے صوبے میں مقامی حکومتیں سرے سے موجود نہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ آگ پلازہ میں نہیں، کراچی کے ہر شہری کے دل میں لگی ہے۔ سانحہ گل پلازہ کو قومی سانحہ قرار دیا جائے۔

ایسا لگ رہا تھا کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ نواز، ایم کیو ایم یا دیگر جماعتوں کے اقتدار میں کبھی کوئی آگ کا واقعہ رونما نہیں ہوا۔ کراچی میں 2012 میں بلدیہ فیکٹری کا بدترین واقعہ ہو یا 2013 میں لاہور میں ایل ڈی پلازہ کی آگ یا پھر پشاور نوتھیا پھاٹک کی آتشزدگی۔

گل پلازہ کی آگ کا واقعہ پاکستان کے بڑے شہروں کے کرپشن زدہ بوسیدہ نظام کی عکاسی کرتا ہے، جہاں محکمے عمارتوں کی تعمیر میں بنیادی قواعد و ضوابط یا حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی بجائے اپنی جیبیں گرم کر کے عوام کو مالدار بلڈر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔

لاہور میں 2013 میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مرکزی پلازے میں لگنے والی آگ سے انکشاف ہوا کہ وہاں آگ بجھانے کے آلات یا ہنگامی انخلا کے راستوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے 25 جانیں چلی گئیں۔

ایل ڈی اے جس کا کام ہے کہ شہر میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے دوران قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنائے بغیر حتمی منظوری نے دے اس کے اپنے ہیڈ آفس کی عمارت میں حفاظتی انتظامات موجود ہی نہیں تھے۔

آگ سے بچنے کے لیے وہاں موجود عملہ اور سائلین چھت پر چڑھ گئے۔ جان بچانے کے لیے چھلانگ لگائی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کئی گھنٹوں بعد پلازے کے قریب واقع گورنر ہا وّس کے ہیلی کاپٹر کی سروس طلب کی گئی تاکہ چھت پر پھنسے افراد کو ریسکیو کیا جا سکے۔

آج بھی کراچی، لاہور اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں تعمیر شدہ بڑے پلازوں اور دیگر عمارتوں میں ہنگامی انخلا یا آگ بجھانے کے آلات سرے سے موجود نہیں ہیں۔

کراچی میں مئیر نے کچھ عرصہ پہلے عمارتوں میں لازمی سہولیات اور قواعد و ضوابط پر عمل در آمد کے بارے میں رپورٹ طلب کی، مگر کئی ماہ قبل تیار ہونے کے باوجود وہ رپورٹ مئیر کے دفتر نہیں پہنچ سکی۔

سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کو 18 ویں ترمیم کے تناظر میں قائم کیا جائے۔ سندھ میں مقامی حکومتوں کا نظام چل رہا ہے مگر شہری معاملات بہتر نہیں ہو پا رہے۔

مقامی حکومتوں کا نظام مارشل لا ادوار میں بھی قائم رہا، مگر کرپشن نے یہ نظام زمیں بوس کر دیا۔ اگرچہ مقامی حکومتوں کے دور میں بیشتر مسائل مقامی سطح پر حل ہو رہے تھے، جس سے عوام کو ریلیف بھی ملتا تھا۔

سیاستدان اپنی جماعتوں پر زور ڈالتے ہیں کہ ان کے حلقوں میں تمام منصوبوں میں ان کا اثرورسوخ قائم رہنا چاہئے تاکہ وہ پارٹی کے لیے سیٹ جیت سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ پنجاب حکومت صوبے میں بلدیاتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کئی سال سے صوبے میں بلدیاتی الیکشن منعقد نہیں کروائے جا سکے۔

صوبائِی حکومتون کے ماتحت محکمے شہروں میں بڑی عمارتوں میں ان کے معیار، ضروری حفاظتی اقدامات، قواعد و ضوابط پر عمل درآمد بالکل یقینی نہیں بنا پائے۔

آج بھی بڑے چھوٹے بڑے شہروں میں بیشترعمارتیں آگ بحھانے کے آلات، معذوروں کے لیے ریمپ، ہنگامی راستے، پلمبنگ اور بجلی فراہم کرنے کے آلات یا تنصیب میں معیار کو یقینی بنائے بغیر منظوری دے رہے ہیں۔ جس کے باعث آئے روز کہیں آتش زدگی اور کہیں عمارت زمین بوس ہونے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں 90 فیصد سے زائد رہائشی اور تجارتی عمارتوں میں ہنگامی راستے موجود نہیں اور یہی حال ملک کے تمام بڑے شہروں کا ہے۔

ملک کے تمام بلدیاتی محکموں میں کرپشن کی بھرمار ہے، اور بلڈر مافیا رشوت دے کر ناقص میٹیریل سے تعمیر ہونے والی عمارتوں میں دکانیں یا رہائشی اپارتمنٹس بیچ رہے ہیں۔

کسی بڑے واقعے سے سبق نہیں سیکھا گیا۔ آج اگر کراچی میں آگ لگنے سے تباہی ہوئی ہے کل پشاور، لاہور یا راولپنڈی میں ایسے ہی واقعات پیش آئیں گے مگر یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔

کراچی میں بلدیہ فیکٹری میں آگ لگنے کا واقعہ ملک کی تاریخ کا سنگین ترین المیہ قرار دیا گیا جس میں ایم کیو ایم کے لوگ براہ راست ملوث پائے گئے۔ اس واقعے سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی مگر مقتدر حلقوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہم سبق سیکھنے والے نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے