پنجاب کی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) نے بسنت کے موقع پر صوبے بھر میں عوامی پارکوں اور گرین بیلٹس میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی ہے۔
دوسری جانب لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے6 فروری سے متوقع 3 روزہ بسنت میلے کی ڈیجیٹل نگرانی کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی ایچ اے کے منیجنگ ڈائریکٹر راجہ منصور احمد نے کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ پتنگ بازی اور اس سے جڑی تقریبات کے دوران درختوں اور پارکوں کے دیگر انفرا اسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں بسنت پر پتنگ بازی کی مشروط اجازت: پابندیوں کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ چونکہ لاہور میں بسنت کا تہوار 3 دن تک منایا جا رہا ہے، اس لیے پنجاب کے دیگر شہروں، دوسرے صوبوں اور بیرونِ ملک سے بھی بڑی تعداد میں افراد کے آنے کی توقع ہے۔
ایسی صورتِ حال میں لوگ پتنگ بازی اور دیگر تقریبات کے لیے عوامی پارکوں اور سبزہ زاروں کا رخ کر سکتے ہیں۔
Kite flying to remain banned in Lahore parks over Basant
The Parks and Horticulture Authority (PHA) has imposed a ban on kite flying in public parks and greenbelts on Basant, as the Lahore administration decided to digitally monitor the three-day festival, pic.twitter.com/TGJI08GOOm
— Muhammad wahaj (@M_wahaj1) January 23, 2026
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے، بشمول پودوں، گرین بیلٹس اور دیگر انفرا اسٹرکچر کو نقصان سے بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
راجہ منصور احمد کے مطابق لاہور میں مستقل آبادی کے علاوہ 4 فروری کی شام سے دیگر شہروں اور ممالک سے بھی بڑی تعداد میں افراد کی آمد متوقع ہے، کیونکہ 5 فروری یومِ کشمیر کی وجہ سے سرکاری تعطیل بھی ہے۔
مزید پڑھیں: بسنت منانے کی تیاریاں، پنجاب پتنگ بازی آرڈیننس 2025 قائمہ کمیٹی سے منظور
انہوں نے واضح کیا کہ پارکس عوام کے لیے کھلے رہیں گے، تاہم وہاں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی، اس سلسلے میں پی ایچ اے کا عملہ ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
پی ایچ اے کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ڈائریکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی حدود میں پتنگ بازی پر عائد پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہوگی اور کسی بھی نقصان یا ناخوشگوار واقعے کی صورت میں متعلقہ ڈائریکٹر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
ڈیجیٹل نگرانی
ادھر ضلعی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ بسنت کی سخت ڈیجیٹل نگرانی ڈرون کیمروں اور لاہور سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کے ذریعے کی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر محمد علی اعجاز کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں بتایا گیا کہ پتنگ بازی کی اجازت صرف 6 سے 8 فروری تک ہوگی، جبکہ پتنگ اور متعلقہ سامان صرف رجسٹرڈ ڈیلرز ہی فروخت کر سکیں گے۔
No safety rod, no ride during Basant
Lahore Commissioner Office has made safety rods mandatory for all bikes under Mehfooz Basant.
From Feb 6–8, motorcycles without rods won’t be allowed, helmets are compulsory, and violators may face fines or impoundment.
100 safety camps to… pic.twitter.com/DXTJkm4bkW— PakWheels.com (@PakWheels) January 21, 2026
ڈپٹی کمشنر کے مطابق مقررہ سائز سے بڑی پتنگوں پر پابندی ہوگی، جبکہ کسی بھی موٹر سائیکل سوار کو حفاظتی تار کے بغیر سڑک پر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بسنت صرف مخصوص گراؤنڈز یا نوٹیفائیڈ چھتوں پر منانے کی اجازت ہوگی، جن میں اندرونِ شہر اور ضلع کے دیگر مخصوص مقامات شامل ہیں۔
پتنگ سازوں اور تاجروں کی رجسٹریشن
دوسری جانب بسنت کے لیے 2,437 پتنگ سازوں، فروخت کنندگان، تاجروں اور تنظیموں نے شہر کی انتظامیہ کے پاس رجسٹریشن کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 22 جنوری 2026 تک 1,334 پتنگ فروشوں نے رجسٹریشن کی درخواست دی، جن میں سے 1,107 منظور، 161 زیرِ التوا جبکہ باقی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔
اسی طرح 838 پتنگ سازوں نے رجسٹریشن کے لیے درخواست دی، جن میں سے 697 منظور، 85 زیرِ غور جبکہ 51 درخواستیں مسترد ہوئیں۔
مزید پڑھیں: بسنت 2026 کے لیے لاہور میں سخت سیکیورٹی انتظامات، پولیس نے تفصیلی پلان عدالت میں پیش کر دیا
250 پتنگ تاجروں میں سے 223 کی رجسٹریشن منظور، 19 زیرِ التوا اور 8 درخواستیں مسترد ہوئیں۔
جبکہ 18 پتنگ بازی تنظیموں نے رجسٹریشن کے لیے درخواست دی، جن میں سے 12 منظور، 2 زیرِ غور اور 4 درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ برس دسمبر میں سخت شرائط کے ساتھ لاہور میں محدود بسنت منانے کا فیصلہ کیا تھا۔











