وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کے 32ویں اجلاس میں صوبے کی تاریخ کے کئی اہم اور عوام دوست فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں کسانوں، نوجوانوں، مریضوں، مسافروں، تاجروں اور مزدور طبقے کے لیے بڑے پراجیکٹس اور پالیسی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ سرکاری زرعی زمین اب اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ غریب کسانوں کے روزگار کے لیے وقف ہوگی۔ مریم نواز نے کہا کہ ’اپنا کھیت، اپنا روزگار پروگرام‘شروع کیا جا رہا ہے۔ 50 ہزار افراد کو کاشت کے لیے سرکاری زمین دی جائے گی۔ صوبے بھر کی زرعی قابلِ کاشت سرکاری اراضی اہل افراد کو دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مزدور اور مزارعے بن کر دوسروں کی زمین پر ہل چلانے والوں کو اب اپنے کھیتوں کا مالک بنایا جا رہا ہے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے
کابینہ نے مختلف محکموں میں ہزاروں نئی آسامیوں کی منظوری دے دی۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) 1000 نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی، ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس 216 کانسٹیبل، مری ٹورازم پولیس میں 980 نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ سی سی ڈی، ایکسائز، ٹورازم پولیس، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں میں بھرتیاں کی جائیں گی، آئی ٹی اینڈ انوویشن ڈیپارٹمنٹ میں نئی آسامیاں متعارف کرائی جائیں گی، ٹی ڈی سی پی میں کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیاں ہوں گی۔
کابینہ نے دو سال میں 10 لاکھ نوکریاں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر وزیراعلیٰ اور کابینہ کو خراج تحسین پیش کیا۔
تحصیلوں تک الیکٹرک بس سروس
پنجاب میں عوامی ٹرانسپورٹ کا دائرہ مزید بڑھاتے ہوئے اضلاع کے بعد تحصیلوں میں بھی الیکٹرک بسیں چلیں گی۔ جبکہ 1000 نئی گرین بسیں منگوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 25 مارچ سے کیش لیس ادائیگی سسٹم نافذ ہوگا۔ ٹی کیش کارڈ اور بینک کارڈ سسٹم کی منظوری دیدی گئی ہے۔ کیش ادائیگی پر زیادہ کرایہ ادا کرنا ہوگا۔
تاجروں کے لیے آسانیاں
وزیر اعلیٰ نے تاجر طبقے کے لیے قوانین میں نرمی اور کاروباری ماحول کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت دی۔
صحت، تعلیم اور انتظامی اصلاحات
کابینہ اجلاس میں مزید اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ جن کے مطابق اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے آئی سی ٹی سیل کے ملازمین کی ملازمت جاری رکھنے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی سلیکشن پالیسی کی منظوری دی گئی۔ یونیورسٹی آف پنجاب کا پوٹھوہار کیمپس، گوجر خان قائم کرنے کے فیصلے پر دستخط کردئیے گئے۔ اسکول مینجمنٹ کونسل پالیسی میں ترامیم کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اور پیرا ویٹرنری فیلڈ اسٹاف کا ٹریول الاؤنس 2000 سے بڑھا کر 4000 روپے کردیا گیا۔
سیاحت، ثقافت اور لائیو اسٹاک کا فروغ
تمام اضلاع میں ہارس اینڈ کیٹل شو کرانے کی ہدایت کی گئی۔ مری کے علاوہ نئے سیاحتی مقامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ٹورازم، آرکیالوجی اور میوزیم ڈیپارٹمنٹ میں بھرتیوں پر پابندی میں نرمی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
امن و امان: کچے کے علاقے میں بڑی پیش رفت
کابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے کچے کے علاقے سے 141 ڈاکو سرنڈر کر چکے ہیں۔ تھرمل ڈرون اور کیمروں سے سندھ سے لائے گئے مغویوں کی نشاندہی ممکن ہوئی۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بازیابی عمل میں آئی۔
دیگر اہم فیصلے
موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم: 16 سے 18 سال کے نوجوانوں کو ڈرائیونگ پرمٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اوقاف ڈیپارٹمنٹ میں ڈائریکٹر ایگریکلچر کی آسامی کی منظوری دی گئی۔ جبکہ ڈی وی آر ایس اور ایم ٹی ایم آئی ایس ملازمین کی سروس میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مری میں برفباری: خواتین افسر کو شاباش
وزیر اعلیٰ نے مری میں برفباری کے دوران سڑکیں کلیئر کرانے پر خاتون ایکسین کو شاباش دی جبکہ صوبائی وزیر ملک صہیب احمد اور ٹیم کی خدمات کو سراہا
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ہر شخص کو اس کا حق دے رہے ہیں، سہولتیں اب شہر سے تحصیل اور تحصیل سے گاؤں تک پہنچ رہی ہیں۔














