خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ واقعہ قریشی موڑ کے قریب مقامی امن کمیٹی کے سربراہ نورعالم محسود کے گھر پیش آیا۔
مزید پڑھیں: کابل کے چینی ریسٹورنٹ میں دھماکا، داعش نے ذمہ داری قبول کرلی
ڈی آئی خان پولیس کے ترجمان کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب شادی کی تقریب میں موسیقی کی محفل جاری تھی اور شرکا ڈھول کی تھاپ پر روایتی رقص کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موسیقی کے دوران اچانک زوردار دھماکا ہوا جس سے تقریب میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے گئے۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں واقعہ دہشتگردی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے اور خدشہ ہے کہ دھماکا خودکش ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نتائج تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
پولیس کے مطابق دھماکے میں 3 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ دھماکے کے وقت بڑی تعداد میں لوگ تقریب میں موجود تھے۔ لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید چوہدری نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ خودکش دھماکا ہو سکتا ہے، جبکہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا ڈی آئی خان دھماکے کا نوٹس، شدید مذمت، آئی جی سے رپورٹ طلب
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے بم دھماکے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے انسپکٹر جنرل پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں کو واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کی نشاندہی اور گرفتاری کی بھی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: ٹانک: پولیس کی بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 5 اہلکار شہید
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، ملوث عناصر کو ہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔














