ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ

ہفتہ 24 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے لیے فضائی سفر شدید متاثر ہو گیا ہے اور متعدد بڑی عالمی ایئرلائنز نے خطے کے لیے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دی ہیں۔

ڈچ ایئرلائن کے ایل ایم، جرمن ایئرلائن لفتھانزا اور فرانس کی ایئر فرانس ان نمایاں عالمی ایئرلائنز میں شامل ہیں جنہوں نے ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کے لیے پروازیں روک دی ہیں۔ ان پابندیوں سے اسرائیل، دبئی اور ریاض جیسے بڑے بین الاقوامی مراکز بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ

ایئر فرانس نے جغرافیائی و سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ عارضی طور پر دبئی کے لیے اپنی پروازیں معطل کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مسافروں اور عملے کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب کے ایل ایم نے ان تمام پروازوں کو روک دیا ہے جن کے لیے ایران، عراق اور خطے کے دیگر ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنا ضروری تھا۔ ڈچ ایئرلائن کے مطابق وہ اسرائیل، دبئی، دمام اور ریاض کے لیے پروازیں بھی معطل کر چکی ہے اور اس سلسلے میں ڈچ حکام سے قریبی رابطے میں ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور روم میں ہوگا، ایرانی نائب وزیر خارجہ

لفتھانزا گروپ نے اسرائیل کے لیے صرف دن کے اوقات میں محدود پروازیں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایرانی فضائی حدود کے استعمال سے مکمل گریز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ایئر کینیڈا نے بھی تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

پروازوں میں اس اچانک خلل کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے احتیاطی طور پر ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ کر دیا ہے، تاہم ممکن ہے اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔

یہ بھی پڑھیے: سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی بحری بیڑے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مشتمل طیارہ بردار جنگی گروپ اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں، جو جلد بحیرۂ عرب یا خلیج عرب کے علاقے میں پہنچ سکتے ہیں۔

فضائی ماہرین اور ایوی ایشن اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات شہری ہوابازی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایران نے ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر 4 گھنٹے سے زائد وقت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، جس سے دنیا بھر کی پروازیں متاثر ہوئیں۔

عالمی ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں صورتحال واضح نہیں ہو جاتی، پروازوں کی بحالی کا کوئی حتمی شیڈول طے نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل، ملک بھر میں بارشیں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

سپریم کورٹ کا مطیع اللہ جان کے مقدمے میں اہم حکم، ٹرائل کورٹ کو فردِ جرم عائد کرنے سے روک دیا

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟