مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کے یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت حاصل حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھنے کی پالیسی کی طرف مبذول کرانا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یومِ سیاہ منانے کی اپیل آل پارٹیز حریت کانفرنس کی جانب سے کی گئی ہے۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے یومِ جمہوریہ کو اپنی غلامی اور بنیادی حقوق کی پامالی کی علامت سمجھتے ہیں اور اسے کسی صورت قبول نہیں کرتے۔
مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال
اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جا رہی ہے، جبکہ آزاد کشمیر، پاکستان اور مختلف عالمی دارالحکومتوں میں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو مقبوضہ خطے میں یومِ جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں۔
سیکیورٹی کے نام پر سخت پابندیاں
ہر سال 26 جنوری کشمیری عوام کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس سال بھی بھارتی فورسز نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ علاقے میں سخت سیکیورٹی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔ وادی کشمیر اور جموں ریجن میں سرکاری تقریبات کے مقامات کی طرف جانے والی تمام سڑکیں خار دار تاروں سے بند کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فورسز نے لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی پیراملٹری فورسز اور پولیس، سنیفر کتوں کے ہمراہ، سرینگر اور دیگر شہروں میں داخلی اور خارجی راستوں پر اچانک ناکے لگا کر گاڑیوں اور شہریوں کی سخت تلاشی لے رہی ہیں۔
عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ
یومِ سیاہ کے مظاہروں کے ذریعے کشمیری عوام ایک بار پھر عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ بھارت کو ایک قابض طاقت سمجھتے ہیں اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حقِ خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے۔














