وفاقی اہلکاروں کی جان لیوا فائرنگ، امریکی سیاست میں نیا بحران؟

پیر 26 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست منیاپولس میں وفاقی اہلکاروں کی جانب سے دوسری ہلاکت خیز فائرنگ کے واقعے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کو ایک بار پھر امریکی قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔

اس پیش رفت نے ری پبلکن جماعت کو انتظامیہ کی جارحانہ حکمتِ عملی کا دفاع کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ ڈیموکریٹس اسے انتخابی سال میں ایک نہایت اہم اور فوری مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹس کے ہاتھوں ایک اور امریکی شہری ہلاک، ملک بھر میں شدید احتجاج

اس ماہ منیاپولس  میں وفاقی اہلکاروں کے ہاتھوں 2 امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ہفتے کے روز آئی سی یو میں خدمات انجام دینے والے نرس الیکس پریٹی بھی شامل ہیں۔

یہ ہلاکتیں ان مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ہوئیں جو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے خلاف سراپا احتجاج تھے، اس سے قبل 7 جنوری کو رینی گُڈ بھی ایسی ہی ایک جھڑپ کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

 https://Twitter.com/japantimes/status/2015634297114259738

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے قائد چک شومر نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت اس قانون سازی کے خلاف ووٹ دے گی جس میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے فنڈز شامل ہوں، کیونکہ یہی محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئس کی نگرانی کرتا ہے۔

 کانگریس کو 30 جنوری تک حکومتی اخراجات کی منظوری دینا ہے، بصورت دیگر جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ شومر نے اتوار کو جاری بیان میں ری پبلکنز سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن میں اصلاحات کے لیے ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کریں۔

مزید پڑھیں: ’ٹرمپ کی دوسری ٹرم میں امریکا کے حالات مزید خراب‘، امریکی ووٹرز کی اکثریت شدید بدظن

دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ اعتدال پسند ڈیموکریٹ رہنما بھی اس مطالبے میں شامل ہو گئے ہیں جو ماضی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر تنقید سے گریز کرتے رہے ہیں۔

نیواڈا سے سینیٹر کیتھرین کورتیز ماسٹو نے کہا کہ یہ کارروائیاں امریکیوں کو محفوظ بنانے کے بجائے امریکی شہریوں اور قانون کی پاسداری کرنے والے تارکینِ وطن کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

 https://Twitter.com/AFP/status/2015537289183568100

ٹرمپ انتظامیہ نے منیاپولس  میں اب تک کی سب سے بڑی امیگریشن کارروائی شروع کی ہے، جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں سے شہر میں مظاہرے اور وفاقی اہلکاروں کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں۔

اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے کسی قسم کی پسپائی کا عندیہ نہیں دیا، انہوں نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ کارروائی ان کی 2024 کی صدارتی فتح اور کانگریس پر ری پبلکن کنٹرول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ 2 امریکی شہریوں کی ہلاکت کا الزام انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر عائد کیا۔

مزید پڑھیں: ICE کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، ٹرمپ نے فوج تعینات کرنے کی دھمکی دیدی

ہفتے کے روز ایک ایسے امریکی شہری کی ہلاکت جس کے پاس قانونی طور پر اسلحہ موجود تھا، ری پبلکن پارٹی کے لیے ایک حساس سیاسی مسئلہ بن گئی ہے، کیونکہ یہ جماعت خود کو اسلحہ رکھنے کے حق کی سب سے بڑی حامی تصور کی جاتی ہے۔

الیکس پریٹی نہ صرف سابق فوجی تھے بلکہ کمیونٹی میں بے حد مقبول سمجھے جاتے تھے، ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور وہ قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے مجاز تھے۔

مزید پڑھیں: آئی سی ای ایجنٹ کے ہاتھوں خاتون کا قتل، یہ ادارہ کیا ہے، اسے کتنے اختیارات حاصل ہیں؟

اسلحہ رکھنے کے حق کی حامی تنظیموں نے انتظامیہ کی جانب سے پریٹی کو احتجاج میں اسلحہ لے جانے پر موردِ الزام ٹھہرانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، منی سوٹا گن اونرز کاکس نے واضح کیا کہ ریاست کے ہر پُرامن شہری کو احتجاج کے دوران بھی اسلحہ رکھنے کا آئینی حق حاصل ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے حالیہ سروے کے مطابق، ڈیموکریٹ ووٹرز بڑی حد تک ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے مخالف ہیں، جبکہ خود ٹرمپ کے 39 فیصد ری پبلکن حامی بھی ان کارروائیوں پر تحفظات رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آئی سی ای  اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی ’رینی نیکول گڈ‘ کون تھیں؟

ان کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کی تعداد کم ہو جائے تب بھی انسانی جانوں کو نقصان سے بچانا ترجیح ہونی چاہیے، آزاد ووٹرز میں سے اکثریت نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کی ہے۔

منیاپولس  کے رہائشی اور مظاہرین میں شامل 50 سالہ ایرک گرے کا کہنا ہے کہ جو کچھ ان کے شہر میں ہو رہا ہے وہ پورے ملک میں کہیں بھی ہو سکتا ہے، اور ان کے بقول منی سوٹا اب ایک آزمائشی میدان بنتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:امیگریشن کے قوانین میں سختی کے بعد امریکی شہریوں کے غیر ملکی بیویاں گرفتار

وفاقی اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان جھڑپوں کی وائرل ویڈیوز نے بعض ری پبلکن قانون سازوں کو بھی بے چین کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ مہنگائی اور عوامی غصے کا سامنا کر رہے ہیں۔

لوئیزیانا کے سینیٹر بل کیسڈی نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے، جبکہ الاسکا کی سینیٹر لیزا مرکوسکی کے مطابق یہ ہلاکتیں امیگریشن نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت پر سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ایران کے خلاف سعودی سرزمین استعمال نہیں ہونے دی جائے گی‘، سعودی عرب کا واضح مؤقف

امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر حملہ، مشتبہ شخص گرفتار

28 جنوری سے 2 فروری تک ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا؟

صدر زرداری کی اماراتی صدر سے ملاقات، پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

وائٹ ہاؤس سے وراثت تک صحت کی خبروں کے بیچ ٹرمپ کو ’یاد‘ رکھے جانے کی فکر

ویڈیو

آبنائے ہرمز پر خطرے کے بادل، امریکی بحری بیڑے کی آمد، ایران کا فضائی حدود بند کرنے کا اعلان

کیا پاکستان کو ٹی 20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟ شائقینِ کرکٹ کی مختلف آرا

پاکستان کے حسن کو دریافت اور اجاگر کرنے کے عزم کیساتھ میاں بیوی کا پیدل سفر

کالم / تجزیہ

ایک تھا ونڈر بوائے

کون کہتا ہے کہ یہ شہر ہے آباد ابھی

نظر نہ آنے والے ہتھیاروں سے کیسے بچاؤ کیا جائے؟