آئی سی ای ایجنٹ کے ہاتھوں خاتون کا قتل، یہ ادارہ کیا ہے، اسے کتنے اختیارات حاصل ہیں؟

جمعرات 8 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک اہلکار نے فائرنگ کر کے ایک خاتون کو ہلاک کر دیا۔ آئی سی ای کے مطابق خاتون نے اہلکار کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی، جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون موقع سے گاڑی نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔

یہ واقعہ بدھ کے روز ایسٹ 34ویں اسٹریٹ اور پورٹلینڈ ایونیو پر پیش آیا، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر آئی سی ای کی گاڑیوں کو گھیر کر انہیں علاقے سے نکلنے سے روکنے کی کوشش کی۔

ہلاک ہونے والی 37 سالہ خاتون کی شناخت اس کی والدہ نے رینی نیکول گڈ کے نام سے کی۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ خود کو ایک  آئینی مبصر قرار دیتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکی شہر منیاپولس میں احتجاج کے دوران آئی سی ای اہلکار کی فائرنگ، خاتون ہلاک

آئی سی ای کے مطابق رینی گڈ نے اپنی ایس یو وی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایک اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی۔ اہلکار نے جان کے خطرے کے پیش نظر 2 فائر کیے، جن میں سے ایک گولی خاتون کے سر میں لگی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔

آئی سی ای کیا ہے؟

ICE، امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کا قیام 2003 میں عمل میں آیا، جب 9/11 کے بعد امریکی سیکیورٹی نظام کو ازسرِنو منظم کیا گیا۔

ICE کی ذمہ داریاں بنیادی طور پر 2  بڑے شعبوں میں تقسیم ہیں

اول: غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم افراد کی نشاندہی، غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری اور حراست، عدالتی کارروائی کے بعد ملک بدری (Deportation)، جعلی دستاویزات اور ویزا فراڈ کے خلاف کارروائی۔

دوم: انسانی اسمگلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ، سائبر کرائم، بچوں کے خلاف آن لائن جرائم، جعلی اشیا اور غیر قانونی تجارت۔

یہ بھی پڑھیں امریکی پولیس کا تشدد، سیاہ فام خاتون ہلاک

آئی سی ای کے ذیلی ادارے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشن ہے۔ جو سنگین جرائم کی تفتیش کرتی ہے، بین الاقوامی جرائم اور دہشتگردی سے متعلق کیسز کو دیکھتی ہے۔ اسی طرح مالی اور سائبر کرائمز کو دیکھتی ہے۔

آئی سی ای کا دوسرا ادارہ انفورسمنٹ اینڈ ریموول آپریشنز ہے جسے غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاری کا اختیار حاصل ہے۔ حراستی مراکز کا انتظام بھی اسی کے ذمہ ہے۔ وہ ملک بدری کے احکامات پر عمل درآمد بھی کرتی ہے۔

ICE کے اختیارات کتنے ہیں؟

ICE کے پاس وسیع قانونی اختیارات ہوتے ہیں، جن میں گرفتاری کا اختیار (وارنٹ کے ساتھ یا بعض حالات میں بغیر وارنٹ)

 اسی طرح اسے حراست میں رکھنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ اسے تفتیش اور چھاپے مارنے کی اجازت بھی ہے۔ غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کا اختیار بھی ہے۔ وہ مقامی اور ریاستی پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں بھی کرتی ہے۔

ICE پر کئی برسوں سے سخت تنقید کی جاتی رہی ہے، خاص طور پر

خاندانوں کی علیحدگی، چھاپوں کے دوران طاقت کا استعمال، نسلی یا امیگریشن پروفائلنگ کے الزامات، شفافیت کی کمی کے ایشوز اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسی وجہ سے امریکا میں کئی شہر خود کو  سینکچوئری سٹیز قرار دیتے ہیں، جہاں مقامی حکومتیں ICE کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کرتیں۔

جنسی تشدد، جبری نس بندی، مذہبی حقوق کی خلاف ورزیاں اور غلط گرفتاریاں

امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کو گزشتہ برسوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ مختلف سرکاری رپورٹس، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا تحقیقات میں آئی سی ای کے حراستی مراکز میں بدسلوکی، غیر قانونی اقدامات اور آئینی حقوق کی پامالی کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

جنسی تشدد کے الزامات

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے آفس آف انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2010 سے جون 2017 کے درمیان امیگریشن حراست میں 1,224 جنسی تشدد کی شکایات درج کی گئیں۔
تاہم رپورٹ کے مطابق ان میں سے صرف 2 فیصد شکایات کی باقاعدہ تحقیقات کی گئیں، جو آئی سی ای کے دعوؤں کے برعکس ہے۔

2020 میں کینو بارڈر انیشی ایٹو کو امریکی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ بدسلوکی کی 442 شکایات موصول ہوئیں، جن کے مطابق امریکا پہنچنے والے تقریباً 18 فیصد افراد نے کسی نہ کسی سطح پر تشدد یا زیادتی کا الزام عائد کیا۔

جبری نس بندی کے الزامات

2020 میں متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک وہسل بلوئر کے ساتھ مل کر جارجیا میں واقع ایک نجی امیگریشن حراستی مرکز پر خواتین کی جبری نس بندی کے الزامات عائد کیے۔

وہسل بلوئر ڈان ووٹن، جو اس مرکز میں نرس رہ چکی ہیں، نے الزام لگایا کہ ہسپانوی اور لاطینی امریکی مقامی زبانیں بولنے والی خواتین پر بغیر مکمل رضامندی یا گمراہ کن معلومات دے کر طبی آپریشن کیے گئے۔

ایک وکیل کے مطابق 40 سے زائد خواتین نے تحریری بیانات میں ان الزامات کی تصدیق کی۔

بین الاقوامی ردعمل

یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ایک پروفیسر نے ان اقدامات کو اقوام متحدہ کے معیار کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور نسل کشی قرار دیا۔ نیویارک یونیورسٹی لا اسکول کے ادارے Just Security نے کہا کہ امریکا پر ان کارروائیوں کی بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

میکسیکو نے بھی امریکا سے وضاحت طلب کی، جب اطلاعات آئیں کہ چھ میکسیکن خواتین کو رضامندی کے بغیر نس بندی کا نشانہ بنایا گیا۔

مسلم قیدیوں کو حرام اور خراب خوراک دینے کے الزامات

2020 میں سی این این کی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا کے شہر میامی میں واقع کروم ڈیٹینشن سینٹر میں مسلم قیدیوں کو بار بار سور کا گوشت یا سور سے بنی اشیا دینے کے الزامات سامنے آئے، حالانکہ یہ ان کے مذہبی عقائد کے خلاف ہے۔

حقوقِ شہری تنظیموں کے مطابق حلال کھانا اکثر خراب یا زائدالمیعاد ہوتا تھا، قیدیوں کو مجبوراً حرام خوراک کھانی پڑی، کئی افراد بیمار ہوئے، جنہیں الٹی، اسہال اور پیٹ درد کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک واقعے میں بتایا گیا کہ مرکز کے چیپلین نے قیدیوں کی مدد کی اپیل کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا: ’ یہی ہے جو ہے‘۔

امریکی شہریوں کی غلط گرفتاریاں

2012 سے 2018 کے اوائل تک 1,480 امریکی شہریوں کو غلطی سے گرفتار اور حراست میں رکھا گیا کچھ افراد مہینوں یا برسوں تک قید رہے

لاس اینجلس ٹائمز کی تحقیق کے مطابق ICE نے غلط اور نامکمل ڈیٹا بیسز پر انحصار کیا۔ ناکافی تحقیقات کی گئیں۔

2008 سے 2018 کے درمیان درجنوں امریکی شہریوں نے غلط گرفتاری پر ICE کے خلاف مقدمات دائر کیے

ایک امریکی شہری نے 2019 میں بتایا کہ وہ حراست کے دوران 23 دن میں 26 پاؤنڈ وزن کم کر بیٹھا کیونکہ اسے مناسب خوراک نہیں دی گئی۔

بچوں کو والدین سے جدا کرنے کی پالیسی

2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت تقریباً 3,000 بچوں کو امریکامیکسیکو سرحد پر والدین سے جدا کر کے حراستی مراکز میں رکھا گیا۔

میڈیا اور عوامی شخصیات نے ان مراکز کو جیلوں اور بعض نے  کنسنٹریشن کیمپس
سے تشبیہ دی۔

سابق امریکی خاتونِ اول لورا بش نے ان مناظر کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپانی نژاد امریکیوں کے انٹرنمنٹ کیمپس سے تشبیہ دی۔

بچوں کو گود لینے کے تنازعات

عدالتی مقدمات میں انکشاف ہوا کہ بعض بچوں کو والدین کو اطلاع دیے بغیر گود دے دیا گیا۔

Bethany Christian Services نامی ادارے پر الزام لگا کہ وہ بچوں کو خاندانوں سے ملانے کے بجائے گود لینے کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا، جس پر شدید عوامی ردعمل اور احتجاج ہوئے۔

Abolish ICE تحریک

ان تمام پالیسیوں اور الزامات کے بعد جون 2018 میں Abolish ICE تحریک نے زور پکڑا جس کا مطالبہ ہے کہ ICE کو ختم یا اس کی ساخت کو مکمل طور پر بدلا جائے۔

سینکچوئری سٹیز (Sanctuary Cities)

امریکا کے کئی شہر خود کو سینکچوئری سٹیز قرار دیتے ہیں، جہاں مقامی پولیس ICE کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کرتی بغیر عدالتی حکم کے کسی شخص کو مزید حراست میں نہیں رکھا جاتا۔ یہ پالیسیاں آئینی خدشات اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹاک ایکسچینج ایک بار پھر منفی زون میں، انڈیکس میں 600 پوائنٹس کی کمی

اب میرا نام لیا تو عدالت لے جاؤں گی، علیزے شاہ کی یاسر نواز کو آخری وارننگ

پائیدار اور بااختیار بلدیاتی نظام کے لیے قومی ڈائیلاگ ضروری، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

طالبان حکومت کی بھارت میں پہلی باضابطہ سفارتی تعیناتی، تعلقات میں بہتری کا عندیہ

رکن اسمبلی نور عالم خان کا شناختی کارڈ منسوخ، بینک اکاؤنٹس بھی منجمد، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

اسلام آباد گیس لیکج حادثہ، ‘میرا سب ختم ہوگیا، گھر واپس کیسے جائیں گے’

اسلام آباد کی سردی میں سوپ کے لیے لمبی قطاریں، اس میں خاص کیا ہے؟

سانحہ 9 مئی: سہیل آفریدی کی موجودگی ثابت، ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، وکیل ریڈیو پاکستان

کالم / تجزیہ

امریکی یلغار: تصویر کے 3 رخ

وزیر اعلیٰ ہو تو سہیل آفریدی جیسا

ہیرا ایک ہی ہے